عدلیہ کے سامنے مقدمہ یہ ہے کہ پاکستان کے مقدر میں دوسرا کوئی نظام لکھا گیا ہے یا نہیں ؟ 09-06-2010

بات یہ بہت ساروں کو بری لگے گی لیکن حقیقت پر پردہ ڈالنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوجایا کرتی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بابائے قوم کی وفات کے بعد وطن عزیز ایک ہی نظام کے شکنجے میں جکڑارہا ہے۔ ہم اس ایک نظام کی پہچان کرانے کے لئے لغت کی مختلف اصطلاحوں اور ترکیبوں کا سہارا رضرور لیتے رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نظام جسے ہم نے کبھی جوڑ توڑ کا نظام کہا، کبھی فوجی آمریت کا نظام قرار دیا اور کبھی جمہوری نظام گردانا ۔۔۔ یہ نظام بنیادی طور پر ” کرپشن کا نظام“ ہی رہا ہے۔ جس طرح زندہ جسم میں خون دوڑتا ہے، اسی طرح اس نظام میں سدا سے کرپشن گردش کرتی رہی ہے۔
ایک فرق ضرور ہے۔ اور وہ یہ کہ کبھی کروڑوں کی ہیرا پھیری کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ، اور کرپشن ہزاروں اور لاکھوں کی ہیرا پھیری تک محدود رہا کرتی تھی۔ اور آج ہزاروں اور لاکھوں کی تو ٹپ دی جاتی ہے’ اور کروڑوں کی ہیرا پھیری کرنے والے گھٹیا درجے کے اہل اختیار سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے دور میں کرپشن کی پیمائش اربوں میں ہوتی ہے۔
جس نوک قلم یا زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اربوں کی رقم اِدھر سے اُدھراور اُدھرسے اِدھر کرنے کی قوت رکھتا ہو’ وہ جنرل پرویز مشرف کی بھی ہوسکتی اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر مسند اقتدار پر بیٹھنے والے کسی ” قومی رہنما“ کی بھی۔۔۔ لیکن دونوں صورتوں میں نظام ایک ہی کامران رہتا ہے۔
کرپشن کا نظام ۔
آج کل پاکستان کی عدلیہ کے سامنے افراد کا مقدمہ نہیں ۔ اس بات پر حتمی فیصلے کا مقدمہ ہے کہ کیا کبھی یہ نظام اپنی آخری ہچکی لے گا یا نہیں۔۔۔
کیا پاکستان کے مقدر میں دوسرا کوئی نظام لکھا گیا ہے یا نہیں ؟

Scroll To Top