بات عوام کی برداشت کی 05-06-2010

اپنے غیر ملکی دورے کے دوران وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک نہایت جذباتی تقریر کے دوران یہ انکشاف کیا ہے کہ ” جج 16مارچ 2009ءکو لانگ مارچ کے نتیجے میں نہیں میرے حکم پر بحال ہوئے تھے۔“
اس انکشاف کو سنسنی خیز بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ اب تک پاکستان کے عوام یہی سمجھتے رہے ہیں کہ 15مار چ 2010ءکے لانگ مارچ نے حکومتی مشینری پر جو دباﺅ قائم کیا تھا اس نے صدر زر داری کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا،اور وہ آرمی چیف کے اس مشورے کو نظر انداز نہ کرسکے کہ ججوں کو فوراً بحال کردیا جائے۔ اب وزیراعظم کے بیان کے بعد عوام کو اپنی رائے تبدیل کرلینی چاہئے اور ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہ باور کرلینا چاہئے کہ لانگ مارچ تو محض ایک کھیل تماشہ تھا،یہ دراصل وزیراعظم ہی تھے جنہوں نے صدر زرداری پر واضح کردیا تھا کہ آپ کو جو کرنا ہے کہ کرلیں میں تو ججوں کو بحال کرکے دم لوں گا۔
وزیراعظم گیلانی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ” آپ نے نو دس برس تک آمرانہ حکومت برداشت کی ہے تو اب جمہوری حکومت بھی برداشت کریں۔“
اگر وزیراعظم صاحب یہ واضح کردیتے کہ یہ بات انہوں نے کس سے مخاطب ہو کر کہی ہے تو مناسب ہوتا۔ ابہام کی صورت میں فوج یہ سمجھے گی کہ وزیراعظم صاحب ہم سے مخاطب ہیں،عدلیہ یہ سمجھے گی کہ وزیراعظم صاحب نے یہ مشورہ ہمیں دیا ہے،اور عوام یہ سمجھیں گے کہ وزیراعظم صبر و شکر کرنے کی نصیحت ہمیں کررہے ہیں۔
وزیراعظم صاحب نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے کہ این آر او کے خالق جنرل پرویز مشرف کیوں آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں برہم خود اپنے آپ سے ہونا چاہئے کہ انہوں نے ہی وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی جنرل صاحب کو باہر جانے دیا۔ کیا وزیراعظم کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں تھا کہ وہ کسی کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال سکتے؟
بات اختیار تک پہنچی ہے تو وزیراعظم صاحب کو اس بات کی وضاحت بھی کردینی چاہئے کہ انہوں نے ججوں کو بحال کرنے کے لئے پوراایک سال انتظار کیوں کیا ؟ انہوں نے کیوں لانگ مارچ کرنے والوں کو یہ موقع دیا کہ وہ ججوں کو بحال کرانے کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالیں؟
باتیں تو بہت ساری وضاحت طلب ہیں۔ لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں کہ وزیراعظم صاحب کو اپنی سمجھ میں ضرور لانی چاہئیں۔
پاکستان کے عوام آمریت بھی برداشت کرسکتے ہیں اور جمہوریت بھی برداشت کرسکتے ہیں،لیکن یہ برداشت کرنا ان کے بس سے باہر ہے کہ انہیں دن دہاڑے لوٹا جاتا رہے۔۔۔

Scroll To Top