ایک سچ عام آدمی کا بھی ہے 04-06-2010

ہر شخص ` ہر جماعت اور ہر ملک کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ جیسے امریکہ کا سچ یہ ہے کہ اسرائیل بے گناہ شہریوں اور نہتے لوگوں کا خواہ کتنا ہی خون کیوں نہ بہالے ` بین الاقوامی قوانین کی کتنی ہی دھجیاں کیوں نہ بکھیر ڈالے ` اسے اس بنیاد پر حق بجانب سمجھا جانا چااہئے جیسے پاکستان پیپلزپارٹی کا سچ یہ ہے کہ وہ چونکہ عوام کے ووٹ حاصل کرکے اقتدار میں آئی ہے ` اس لئے اسے میرٹ کی بے حرمتی کرنے ` من پسند افراد کو سرکاری خزانے سے نوازنے ` اداروں کے امور کو باپ دادا کی جاگیروں کی طرح چلانے ` اور قواعد و ضوابط کو کباڑخانے کی زینت بنائے رکھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ یا جیسے میاں نوازشریف کا سچ یہ ہے کہ چونکہ انہیں خدا نے نواز رکھا ہے ` اور وہ نام کے ہی نہیں اعمال کے بھی شریف واقع ہوئے ہیں ` اس لئے انہیں مغلیہ دور کے شہنشاہوں جیسی شان و شوکت کے ساتھ بودوباش اختیار کرنے اور حقیر رعایا کو حقیر رعایا سمجھنے کا حق حاصل ہے۔
ایک سچ ہمارے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا بھی ہے جو ایک فوج ظفر کے ساتھ طارق بن زیاد والے اندلس کو دوبارہ فتح کرنے نکلے ہوئے ہیں۔ ان کا سچ یہ ہے کہ ملک بے شک افلاس کی حدود میں داخل ہوچکا ہے ` قرضوں کا بوجھ بے شک کمر توڑ کہلا سکتا ہے ` عوام بے شک مہنگائی اور مفلسی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن اگر مملکت خداداد پاکستان کا فرماںروا غیر ملکی دوروں پر اپنے ہمراہ درباریوں کی فوج لے کر نہ جائے تو ملک کی کتنی رسوائی ہوگی !
اور وہ یہ کہ ” میری ہڈیوں پر اپنے محلات تعمیر کرنے والو۔۔۔ قدرت کو کبھی نہ کبھی تو میری حالت پر رحم آئے گا اور وہ میرے ہاتھوں میں اتنی طاقت پیدا کردے گی کہ تمہاری گردنوں کو دبوچ سکیں!“

Scroll To Top