بھارت ، بنگلہ دیش، افغانستان اور بھوٹان کا گٹھ جوڈ

بھارت کا رواں سال 9 اور 10دسمبر کو سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان ان حلقوں کو یقینا افسردہ کرگیا جو اس اہم موقعہ کو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدیگی ختم کرنے کے ایک موقعہ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ اس ضمن میں بھارت نے سارک اجلاس کی صدارت کرنے والے ملک نیپال کو بھی اطلاع دے دی ہے۔پاکستان کا نام لیے بغیر بھارت نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ”ایک ملک نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جو اجلاس کے لیے مناسب نہیں ہے “
ادھر بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے سماجی ویب سائٹ میں اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ”علاقائی تعاون اور انتہاپسندی ایک ساتھ نہیں چل سکتے لہذا انڈیا اسلام آباد کانفرنس میں شامل نہیں ہوگا “
پاکستان نے بھارتی اعلان کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بھارت نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھی علاقائی امن اور تعاون کا پابند ہے“
دوسری جانب بھارت کے بعد بنگہ دیش ، افغانستان اور بھوٹان نے بھی اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ممالک نے رابطہ کر شرکت نہ کرنے کی اطلاع دے چکے۔ اب ممالک کی شرکت نہ کرنے کی صورت میں سارک کانفرنس میں محض چار ممالک رہ جائیں گے جن میں پاکستان ، سری لنکا، مالدیپ اور نپیال شامل ہیں۔
بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ بھارت دانستہ طور پر پاکستان کے ساتھ کشیدیگی کم کرنے کے موڈ میں نہیں ۔ اڈی حملے کی آڈ میں مودی سرکار نے خطے میں جنگ کا سا جو ماحول پیدا کردیا ہے اسے ختم کرنے کے لیے کوئی بھی مثبت قدم نہیں اٹھایا جارہا ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم وستم کے نتیجہ میں جو صورت حال پیدا ہوچکی اس سے توجہ ہٹانے کے لیے بی چی پی سرکار پاکستان سے تناو کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ یقینا بھارتی پالیسی سازوں سے یہ سچائی مخفی نہیں کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں اسی وقت ہی ٹھوس نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں جب علاقائی سے بڑھ کر عالمی سطح پر مشترکہ کوشیش کی جائے ۔سارک کانفرنس کے تناظر میں بھارت پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اس کے نتائج عارضی طور پر تو بھارت کے لیے بہتر ہوسکتے ہیں مگر یہ منصوبہ بندی طویل المیعاد بنیادوں پر کسی صورت بہتر نتائج نہیں دی سکتی۔
درپیش معاملہ تشویشناک بھی ہے اور افسوسناک بھی کہ دراصل اب بھارت پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ ہموار کرنے میں مصروف ہے۔ حال ہی میں نریندری مودی نے برملا طور پر کہا کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کردے گا۔ بھارتی وزیراعظم پاکستان کے خلاف جس طرح منفی اقدمات اٹھانے کے جتن کررہے اس سے کچھ کم اگر وہ دونوں ملکوں میں خوشگوار تعلقات کی بحالی کے لیے کرتے تو اس کے نتائج آج نہیں توکل ضرور مثبت ظاہر ہوتے۔
اس میں شک نہیں کہ سارک کانفرنس کی پوری تاریخ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی اسیر نظر آتی ہے۔ افسوس کہ اس علاقائی تنظیم کے ان بنیادی مقاصد کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا جو اس کے قیام کا باعث بنے تھے۔ کم وبیش سارک کانفرنس کے ہر اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے باہم مسائل ہی اس کا احاطہ کیے رکھتے ہیں۔ بھارت کو خوش کرنے کے لیے پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے والے علاقائی ملکوں کو بہرکیف سوچ وبچار کرنا ہوگا کہ وہ آخر اس اہم فورم کو کسی مخصوص ملک کی خواہشات پر کیونکر قربان کررہے ہیں۔
ادھر امریکہ سے اطلاعات مل رہیں کہ بھارت کو پاکستان سے اڈی واقعہ کو بنیاد بنا کر محازآرائی میں شدت نہ پیدا کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔ خیال ہے کہ انکل سام اپنے زرائع سے اس بات کی تصدیق کرچکا کہ تازہ کاروائی میں سرحد پار سے آنے والے کسی گروہ کی کاروائی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھارتی موقف کو من وعن قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔اگرچہ بھارت نے اڈی حملے کے ثبوت پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے مگر ان شواہد کے ٹھوس ہونے بارے تاحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز چند روز قبل برملا کہہ چکے کہ اڈی واقعہ کی تحقیقات بین الاقوامی سطح پر کی جانی چاہے تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آسکے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اب تک یہی ہوتا چلا آیا کہ بھارت اپنے ہاں ہونے والے ہر حملے کا الزام پاکستانی اداروں یا غیر ریاستی عناصر پر الزام عائد کردیتا ہے۔“
بظاہر بھارت کسی طور پر اپنا سیکورٹی نظام اس قدر مضبوط بنانے کو تیار نہیں تاکہ اسے پاکستان پر الزام تراشی کا موقعہ ہی نہ ملے۔ یہ کہنا درست ہوگا وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برداری اس معاملہ کو حل کرنے کے لیے پوری زمہ دار کے ساتھ آگے بڑھے اور بھارت کو اس امر کا پابند کیا جائے کہ وہ بنا ثبوت پاکستان پر الزام تراشی سے باز رہے۔عالمی سیاست پر بدستور امریکہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا چنانچہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کو یہ کسی طور پر زیب نہیں دیتا کہ وہ ہر بحران میں اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال کر پاکستان پر دباو ڈالنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دے۔

Scroll To Top