عثمان سے جناح تک خواب پرستی اور شاونزم کی ایک داستان 15-10-2009

خواب پرست ہونا یا شاونسٹ ہونا شاید اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ جو لوگ خواب پرستی کو اچھا نہیں سمجھتے ان کے خیال میں خواب پرست لوگ زمینی حقائق سے کٹے ہوتے ہیں۔ ان کے پاﺅں زمین پر نہیں ہوتے ` اور جن لوگوں کے پاﺅں زمین پر نہیں ہوتے وہ جب گرتے ہیں تو ” چوُر چوُر“ ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک شاونسٹ ہونے کا تعلق ہے اس کا مطلب جنون کی حدتک زمین نسل یا عقیدت سے لگاﺅ رکھنا ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ جنون حب الوطنی کا بھی ہو تو روشن خیال اعتدال پسند اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
مجھے نہیں معلوم کہ اسے میں اپنی بدقسمتی سمجھوں یا خوش قسمتی کہ میں خواب پرست بھی ہوں اور شاونسٹ بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے تمام بڑے کارنامے ان خوابوں کے مرہون منت ہیں جو ” زمینی حقائق سے کٹے“ لوگوں نے دیکھے۔ قسطنطینہ فتح کرنے کا خواب مسلمانوں نے ساتویں صدی میں دیکھنا شروع کیا تھا۔ اور اس خواب کی تکمیل میں سات صدیاں لگیں۔ ان سات صدیوں میں یہ خواب کبھی مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔
سکندر اعظم بھی ایک خواب لے کر ہی مقدونیہ سے نکلا تھا۔
چاند پر قدم رکھنے کا بھی کسی نے خواب ہی دیکھا ہوگا۔
پاکستان بھی کسی نہ کسی کے دیکھے گئے خواب کا ہی نتیجہ ہے۔
یہ بھی ایک خواب ہی تھا کہ غربت وافلاس کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنے۔
میں تو یہ کہتا ہوں کہ لوگ مرجایا کرتے ہیں خواب نہیں مرا کرتے۔
جہاں تک شاونزم کا تعلق ہے ۔ یہ اصطلاح فرانس کے ایک فرضی سپاہیانہ کردار Nicholas Chauvin سے نکلی ہے جو اپنے وطن کی حرمت اور نیپولین بونا پارٹ سے وفاداری کو اپنی زندگی سے زیادہ قیمتی اور مقدس سمجھتا تھا۔
یہ کارنامہ تو اینگلوسیکسن فاتحین کا ہے کہ انہوں نے شاونزم کو تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنا کر رکھ دیا۔ جیسے وہ آج کے دور میں ” جہاد“اور ” شہید“ کو تضحیک وتمسخر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
جہاں تک میرے شاونزم کا تعلق ہے وہ علامہ اقبال ؒ کے اس ایک مصرعے کے اردگرد گھومتا ہے۔
”اسلام ہمارا دیس ہے ہم مصطفوی ہیں۔“
اپنا آج کا کالم میں ایک خواب کی کیفیت میں لکھ رہا ہوں۔ تیرہویں صدی عالم اسلام کے لئے شکست و ریخت اور ذلت و رسوائی کی صدی تھی۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ صدی صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کے آزاد ہونے کے بعد آئی۔
تیرہویں صدی میں چنگیزی طوفان نے اسلام کی دو عظیم سلطنتوں کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا۔ ایک سلطنت خوازرم تھی اور دوسری سلطنت عباسیہ ۔ صدی کے شروع میں بلخ بخارا ` سمر قند ` تاشقند اور مرو وغیرہ تارتاریوں کے ہاتھوں تاراج ہوئے۔اور 1258میں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔
اگرچہ منگول یلغار کو مصر میں سلطان بیبرس نے روک دیا لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تیرہویں صدی کی تاریکیوں سے مسلم نشاة ثانیہ کا ایک ایسا سورج طلوع ہوگا جس کے سامنے ساری دنیا کی طاقتیں ماند پڑ جائیں گی۔ اور قدرت کی کرشمہ سازی دیکھئے کہ جس ” عثمان“ نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی اس کے آباواجداد منگول تھے۔
میرا شاونزم یہ ہے ۔ اور خواب پرستی بھی یہی کہ میری رائے میں اسلام کی اگلی نشاة ثانیہ کا سورج مملکت خداداد پاکستان سے طلوع ہوگا۔
عثمان سے پہلے ترکی نام کا کوئی ملک نہیں تھا۔
اور جناح سے پہلے پاکستان نام کا کوئی ملک نہیں تھا۔

Scroll To Top