دو بڑے مسئلے۔۔۔ عمران خان اور جنرل راحیل

محترمہ مریم نوازشریف نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے۔
” کشمیر اور پاکستان کی مہم کامیابی سے چلانے کے بعد وزیراعظم واپس پہنچ گئے ہیں۔“
کیا محترمہ اُن اقدامات کو ” کامیابی “ سے تعبیر کررہی ہیں جو بھارت کررہا ہے ؟
میں یہاں صرف دواقدامات کا ذکر کروں گا ۔
سندھ طاس کامعاہدہ منسوخ کرکے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی۔
بھارت کی طرف سے سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان۔۔۔ صرف اس بنا پر کہ یہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہورہی ہے۔
میاں نوازشریف یہاں سے نیویارک کشمیر اور پاکستان کا مقدمہ لڑنے کے لئے نہیں گئے تھے۔۔۔ وہ اس مائنڈسیٹ کے ساتھ گئے تھے کہ انہوں نے مودی کے ساتھ دوستی کے رشتے استوار کرنے کی جو حکمت عملی اختیار کررکھی ہے اسے کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم ` اور پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بھارتی سازشوں کے باوجود کیسے مکمل ناکامی سے بچایا جاسکتا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کلبھوش یادیو اور بلوچستان کے بارے میں بھارتی وزیراعظم کے بیانات کے متعلق ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔
میں سمجھتا ہوں۔۔۔ بلکہ پاکستان کا ہر محب وطن اور باشعور شہری یہی سمجھتا ہے ۔۔۔ کہ اگر جنرل راحیل شریف بروقت بھارت کو آئینہ نہ دکھاتے تو نئی دہلی کی حکومت ” اُڑی سیکٹر “ میں ہونے والی دہشت گردی کا پورے کا پورا ملبہ پاکستان پر گرا دیتی۔۔۔
مریم نوازشریف کو چاہئے تو یہ تھاکہ اپنے والد سے واپسی پر پوچھتیں۔۔۔
” ابا حضور ۔۔۔ یہاں ملک مسائل میں گِھرا ہوا ہے۔۔۔ آپ نیو یارک سے سیدھے اسلام آباد کیوں نہ پہنچے۔۔۔؟ لندن کی سیر کیوں ضروری تھی۔۔۔۔؟“
لیکن محترمہ ملک کے مسائل ٹوئٹر پر حل کرنا چاہتی ہیں۔
ملک کے مسائل کیا ہیں؟
عمران خان کے خیال میں یہ حکومت خود پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
مگر حکمران خاندان کی رائے میں سب سے بڑا مسئلہ عمران خان ہیں جنہیں وہ ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی جس کا راگ اس قدر تواتر کے ساتھ حکومت کی طرف سے جاری کردہ اشتہارات میں الاپا جاتا ہے۔
حکمران خاندان کی رائے میں جنرل راحیل شریف بھی کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں کہ انہوں نے امن کے وہ دیپ ایک ہی پھونک میں بجھا دیئے ہیں جنہیں ” میاں مودی “ بڑے ” پریم “ کے ساتھ جلا رہے تھے۔۔۔

Scroll To Top