دو جھوٹ جو ہماری سیاست کی بنیاد ہیں 28-05-2010

سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے زمانے میں ایک ترکیب نے بڑی شہرت پائی تھی۔
Trickle-down effect
یعنی اوپر سے نیچے منتقل ہونا۔
مطلب اس ترکیب کا یہ ہے کہ اگر اوپر کا طبقہ خوشحال ہو تو اس کی خوشحالی خودبخود نیچے منتقل ہوتی ہے۔جناب شوکت عزیز نے اپنے اس فلسفے پر جس انداز میں عمل کیا سب کے سامنے ہے ` اور اوپر کے طبقے کی خوشحالی جس طرح نیچے کے طبقوں میں منتقل ہوئی اس کا اندازہ گزشتہ تین چار برسوں کے حالات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جناب شوکت عزیز کے زمانے میں اوپر کا طبقہ خاصا وسیع تھا مگر ان کے جانے کے بعد جو حکمران اقتدار پرقابض ہوئے نہوںنے ” خوشحالی “ کو خاصا محدود کرلیا۔ اور اب تو صورتحال یہ ہے کہ درمیانہ طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس کر اللہ کو پیارا ہونے والا ہے۔
ایک اور مقولہ بھی ایک عرصے سے ہمارے پرستاران جمہوریت میں مقبول رہا ہے ۔ اور وہ یہ کہ جمہوریت کا عمل چلتا رہے گا تو آہستہ آہستہ بہتر لوگ پارلیمنٹ میں آنے شروع ہوجائیںگے۔
حالات نے اس خیال کو بھی یکسر غلط ثابت کیا ہے۔ جو لوگ پہلے پارلیمنٹ میں نظرآیا کرتے تھے وہ آج کے دور کے مقابلے میں فرشتے لگتے ہیں۔ آج کی پارلیمنٹ میں جو لوگ کسی حد تک قابل قبول لگتے ہیں وہی لوگ ہیں جو ایک عرصے سے جمہوری عمل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ورنہ اب تو جعلسازوں اور فراڈیوں کا دور دورہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جیسا سردار ہوگا ویسے ہی اس کے حواری ہوںگے۔حالیہ دنوں میں جمشید دستی کا جعلسازی کا اعتراف کرکے استعفیٰ دینا ` پھر پارٹی کا اعتماد حاصل کرکے دوبارہ انتخاب لڑنا اور جیتنا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس نظام کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی گئی ہے کہ جس کے پاس مال ہے وہ انتخاب لڑے ` وہ نظام ” مالداروں“ کے چنگل سے کیسے نکل سکتا ہے۔
یہاں میں انگریزی کے ایک مشہور مقولے کو دہراﺅں گا۔
Behind every great fortune there is a great rime
مال کی خصلت ہی کچھ ایسی ہے کہ شرافت اس کے ساتھ چل ہی نہیں سکتی۔
آخر کوئی تو وجہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ اور خلفائے راشدہ نے تنگدستی میں زندگی گزاری اور خدا نے انہیں مال کے شر سے دور رکھا!

Scroll To Top