بھائی بھیڑئے۔۔۔ ہماری مرغیوں کو جان کا خطرہ۔۔۔ کیا ان کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرکے تم ہم پر احسان عظیم نہیں کرسکتے ؟ 22-05-2010

میری نظروں سے محترم وزیراعظم پاکستان کا یہ بیان گزرا ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ کا جیل جانا حکومت کے لئے ٹھیک نہیں۔
یہ بیان ہر لحاظ سے قابل فہم ہے ` مگر اس ضمن میں بہت سارے سوالات اٹھے بغیر نہیںرہتے۔ پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ ” کیا ایک ایسے شخص کا وزیر داخلہ ہونا حکومت یا ملک کے لئے ٹھیک ہے جس کے جیل جانے کا ذرا سا بھی احتمال ہو۔۔۔؟“ اگر اس قسم کا احتمال نہ ہوتا تو و زیراعظم صاحب کو اس نوعیت کا بیان دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
ہوسکتا ہے کہ جب جناب رحمان ملک وزیر داخلہ بنائے گئے تھے اس وقت ان کے جیل جانے کا کوئی احتمال نظر نہیں آتا تھا۔ شاید بہت ساروں کو نظر آتا بھی رہا ہو لیکن صدر مملکت اور وزیراعظم صاحب کو بہرحال نظر نہیں آتا ہوگا ۔ مگر اب جبکہ رحمان ملک صاحب کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں ` اور ایسی صورتحال بھی پیدا ہوگئی کہ صدر مملکت کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ رہا کہ اپنے ” رفیق کار “ کو ہتھکڑیوں سے بچانے کے لئے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کریں ¾ تو وزیراعظم صاحب کو چاہئے تھاکہ مندرجہ بالا بیان دینے کی بجائے اپنے وزیر داخلہ سے کہتے۔
” آپ ہمیں بے حد عزیز ہیں۔ مگر قانون اور اخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہیں جنہیں نظر انداز نہیںکیا جاسکتا۔ جب تک آپ کو تمام عدالتیں تمام معاملات سے بری نہیں کردیتیں ` آپ یا تو آرام فرمائیں یا پھر کوئی دوسری وزارت قبول فرمالیں کیوں کہ جو پولیس آپ کو ہتھکڑیاں ڈال سکتی ہے ` وہ موجودہ صورتحال میں آپ کے احکامات کی تعمیل کرنے کی پابند ہے۔ کتنی شرمناک بات ہوگی کہ آپ کو کسی انسپکٹر سے خود کہنا پڑے کہ مجھے گرفتار کرو۔۔۔“
بات یہ ساری مضحکہ خیز لگتی ہے ۔ لیکن جس دور میں مضحکہ خیز دلائل کی فراوانی ہو اس میںہم کسی بھیڑئے سے بھی یہ درخواست کرسکتے ہیں کہ ” عزیزم ۔۔۔ ہماری مرغیوں کو جان کا خطرہ ہے ` تم ان کی حفاظت کی ذمہ داری قبول فرما کر ہم پر احسان عظیم کرو۔۔۔

Scroll To Top