مقبوضہ کشمیر میں 81 ویں روز بھی کرفیو، صورتحال بدستور کشیدہ

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا جس کے باعث ریاست میں حالات بدستور کشیدہ ہیں جب کہ81 ویں روز بھی جنت نظیر وادی میں کرفیو نافذ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 81 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے، کرفیو کے باعث  تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند جب کہ ریاست کی کٹھ پتلی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ اڑی سیکٹر میں بھارتی فوجی اڈے پر حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال اور حریت رہنماؤں کی جانب سے مظاہروں کے اعلان کے بعد وادی میں مزید افواج کو تعینات کردیا گیا ہے۔

گزشتہ روز بھی سری نگر سمیت پوری ریاست میں حریت رہنماؤں کی اپیل پر مظاہرے کیے گئے جب کہ مقبوضہ وادی میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سری نگر کے اسپتال میں پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے۔ بھارتی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے وادی میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے باعث اب تک 105  کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی کو بھارتی فوج کے ہاتھوں تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر بربان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے جنت نظیر وادی میں بھارتی بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ بھارتی فوج کی جانب سے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال سے اب تک 800 سے زائد افراد کی بینائی بھی متاثر ہو چکی ہے۔

Scroll To Top