ہنوز ہم زندہ ہیں 21-05-2010

نہایت ہی خوش آئند بات ہے کہ مشہور ویب سائٹ ” فیس بُک“ کے معاملے میںپاکستان کا ردعمل حکومتی اور عوامی دونوں سطحوں پر درست اور بروقت سامنے آیا ہے۔ مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ خود ہمارے نام نہادلبرل حلقوں میں ” فیس بُک“ پر پابندی کے فیصلے کو ناقدانہ نظروں سے دیکھاجائے گا مگر ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ۔ ہماری ملی شناخت اور ” دینی پہچان“ جن اہم ستونوںپر کھڑی ہے ان میں ناموس رسالت اور حرمت قرآن کو اولیت حاصل ہے۔ جہاں تک باری تعالیٰ کی معبودیت کا تعلق ہے اس پر شاید بہت سارے مذاہب میں اتفاق رائے کی گنجائش موجود ہو ` مگر اسلام کے دشمنوں نے صدیوں سے ناموس رسالت اور حرمت قرآن کو ہی اپنی نفرتوں کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔ اگرمسلمان اپنے تمام فرقوں اور تفرقات کے باوجود ناموس رسالت اور حرمت قرآن کے بارے میں یکساں جذباتی نہ ہوتے تو اسلام بھی داستان گم گشتہ بن چکا ہوتا۔ میں اس ضمن میں انیسویں صدی کی مشہور ہنٹرز رپورٹ(Hunter’s Report) کا ذکر کروں گا۔ 1857ءکی جنگ آزادی کو کچلنے میں تو برطانوی سامراج کامیاب ہوگیا تھا لیکن مسلمانوں کی عسکری مزاحمت کسی نہ کسی صورت میں قائم نظر آتی تھی۔ چنانچہ ایک بڑے تجزیہ کا ر ہنٹرکے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ مسلمان کو ” راہ راست “ پر لانے کے لئے مناسب اقدامات تجویز کرے۔ کافی ریسرچ کے بعد ہنٹر نے جو رپورٹ تیار کی اس کے دو بنیادی نکات تھے۔
(11)مسلمانوں کو مجدد الف ثانی ` شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوہاب کی تعلیمات سے دور کرنے کے لئے ایسے علماءکو سامنے لایا جائے جو اسلام کے فلسفہ جہاد کے بارے میں سوالیہ نشانات کھڑے کریں۔
(2)اسلام کو خدا پرستی سے دور اور قبرپرستی کے قریب تر کیا جائے۔
ہنٹر کی اس رپورٹ پر بڑی کامیابی کے ساتھ عمل کیا گیا۔ اسلام میں فرقوں کی بنیاد پر تقسیم کا عمل تیز کردیا گیا۔ ” جہاد“ کو ایک متروک نظریہ بنا ڈالنے کی مہم شروع کردی گئی۔
آج کی صورت حال زیادہ مختلف نہیں۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ خود ہمارے دانشور اور تجزیہ کار ” جہاد“ اور ” جہادی“ جیسی اصطلاحیں دہشت گردی اور قتل و غارت کے معنوں میں استعمال کررہے ہیں۔
ایسے میں اگر ناموس رسول اور حرمت قرآن کے معاملے میں قوم متحد نظرآتی ہے تو اسے میں ” زندگی کی علامت“ سمجھوںگا۔
ہنوز ہم زندہ ہیں۔

Scroll To Top