گناہ اور دعوت گناہ۔۔۔۔ 18-05-2010

میں آج پنجاب ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا جس کی رو سے سیاسی اخلاقیات اور قانونی تقاضے جناب رحمان ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ وزارت داخلہ کا قلمندان اپنے ہاتھ میں رکھیں۔
لیکن پھر میں نے سوچا کہ جناب رحمان ملک کو اپنے ضمیر کی آواز سننے کے لئے ایک دو دن کی مہلت ضرور ملنی چاہئے۔ ہرشخص کے اندر ایک انسان بسا ہوتا ہے جو اپنا رشتہ آدمؑ سے جوڑتا ہے اور جو اس رشتے کے تقدس کو مجروح ہونے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔ اسی کوشش کو اہل فکر نے ” ضمیر کی آواز“ کا نام دے رکھا ہے۔بدقسمتی کی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ اس کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ہر شخص کے اندر انسان کے پہلو بہ پہلو ابلیس بھی موجود ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ابلیس کے پاس انسان کو بہکانے کے لئے دلائل کا وافرذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ کبھی وہ اس سے کہتا ہے کہ جب عوام کی عدالت تمہارے ساتھ ہے تو پھر تمہیں کسی دوسری عدالت سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اور کبھی وہ اس سے کہتا ہے کہ بے وقوف اگر تم نے اپنے ضمیر کی آواز سننے میں عجلت سے کام لیا تو جو کچھ تم نے میری ہدایات پر عمل کرکے کمایا ہے `سب تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
میںسمجھتاہوں کہ جناب رحمان ملک کو اس بات کا موقع ضرور ملنا چاہئے کہ وہ اپنے اندر کے شیطان اور انسان کے درمیان ہونے والے مکالمے کو پوری طرح پرکھ سکیں۔
چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج میں اس خبر کے بارے میں لکھوں گا جس میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی ایک ” مسلمان “ لڑکی نے مس امریکہ کا اعزاز حاصل کرلیاہے۔ مجھے موصوفہ کے اعزاز حاصل کرنے پر تو کوئی اعتراض نہیں ` لیکن کیا کوئی لڑکی برسرعام کپڑے اتار کر یا اتروا کر اپنی جسمانی خوبصورتی کا سحر ” مشتاقان دید“ پر طاری کرنے کے بعد مسلمان کہلاسکتی ہے۔ اس سوال کا جواب اثبات میں حاصل کرنا صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ ہم اس ” اسلام “ کو فرسودگی کے خانے میں ڈال دیں جو رب کعبہ نے اپنے محبوب اور اپنے کلام کے ذریعے ابد تک ہماری رہنمائی کرتے رہنے کے لئے بھیجا تھا۔۔۔؟
آج کل ہمارے ٹی وی چینلز پر ناظرین کامن موہنے کے لئے کافی ” اینکرپرسنز“ تقریباً ستر فیصد لباس اتار کر کیمرے کے سامنے آرہی ہیں۔ میرے خیال میں بہت کم مرد آپ کو ایسے ملتے ہوں گے جو اپنا پندرہ بیس فیصد سے زیادہ جسم ننگا رکھتے ہوں۔ شریف زادیوں کو اپنے جسم کا کتنا حصہ ننگا رکھنا چاہئے اس کا فیصلہ تمام شریف زادیوں کے شریف والدین کو کرنا چاہئے ` مگر ہمارے معاشرے کو پورا حق حاصل ہے کہ جو شریف زادی اپنے جسم کا زیادہ حصہ نمائش کے لئے پیش کررہی ہو ` اسے ” دائرہ شرافت“ سے خارج کرکے اسے یہ پیشکش کرے کہ اگر تم چاہو تو جسم فروشی کے لئے لائسنس حاصل کرنے کے لئے درخواست دے سکتی ہو۔۔۔

Scroll To Top