اب اور کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا ! 15-05-2010

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں چوراہوں پھندوں اور گردنوں کی بات کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہایت ہی ” انتہا پسندانہ “ انداز فکر ہے ۔ مگر جو بھی آدمی میڈیکل سائنس سے آگہی رکھتا ہے وہ جانتا ہوگا کہ مرض کا علاج جب روایتی دواﺅں سے ممکن نہ رہے تو سرجری کی نوبت آئے بغیر نہیں رہتی۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ زرپرستی ہوس پرستی اور ابلیسیت پرستی میں سر سے پاﺅں تک ڈوبے ہوئے معاشروں کو قانون قدرت نے یا تو تباہ کردیا یا پھر” پرتشدد تبدیلی “ کی راہ پر ڈال کر انہیں ایک نئے تشخص اور ایک نئی زندگی سے ہمکنار کیا۔
بدی کے ساتھ کھلم کھلا سمجھوتہ کرنے والے معاشرے صرف ”لبرل“ کہلا کر اس انجام سے نہیں بچ سکتے جو قدرت ناقابل علاج مرض میں مبتلا ” بیماروں “ کے لئے مخصوص کردیا کرتی ہے۔ اور ناقابل علاج مرض وہ ہوتے ہیں جن کے مریض علاج کی ضرورت ہی محسوس نہیںکرتے۔یہ معاشرہ جس میں ہم رہ رہے ہیں،اسے علاج کی ضرورت ہے۔ اسے ان لوگوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا جو اس کی مہلک بیماریوں کی وجہ ہیں۔ جس معاشرے میں معصوم اور کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی کے ارتکاب کی خبریں تو چھپیںپر کبھی کسی درندے کی لاش کو چوراہوں پر لٹکائے جانے یا گھسیٹے جانے کی خبر نہ چھپے،وہ کب تک قانون قدرت کے لمبے ہاتھوں سے بچ سکتا ہے ؟ جس ملک کے سب سے بڑے چور اس کے خزانوں کے محافظ اور امین بن جائیں وہ کب تک اپنی تباہی کو دور رکھ سکتے ہیں ؟ جس قوم کے لیڈر ” بدی“ کو تحفظ فراہم کرنے کے کام میں لگ جائیں اس کی فلاح کا کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔۔۔ سوائے چوراہوں پھندوں اور گردنوں کی داستان پورے ” جنون انقلاب “ کے ساتھ دہرائے جانے کے۔۔۔

Scroll To Top