بھارت سندھ طاس معاہدے سے انحراف نہیں کرسکتا

اڈی واقعہ کے بعد مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف سیاسی اور سفارتی محاذ گرم تو کرلیا مگر اب اس سے نکلنے کا انھیں کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ کبھی بھارتی وزیراعظم اب پاکستان کے خلاف فوجی مہم جوئی سے پچھے نہ ہٹنے کا اعلان کرتے ہیں تو کہیں غربت ، جہالت اور بے روزگاری کے خلاف مشترکہ لڑنے کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ادھر بین الاقوامی برداری بھی بھارت کے جارحانہ عزائم کو دادتحسین پیش کرنے کو تیار نہیں۔ہر ملک باخوبی آگاہ ہے کہ دو ایمٹی قوت کی حامل ریاستوں میں زبانی کشیدیگی کی حوصلہ افزائی کرنا بھی بالاآخر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
تازہ پیش رفت میں مودی اب پاکستان کا پانی بند کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ اس ضمن میں پیر کو نئی دہلی میں سندھ طاس معاہدے پر غور کرنے کے لیے اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں بھارتی وزیراعظم کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈول،سیکرٹری خارجہ ایس کے شنکر اور وزارت پانی وبجلی کے سیکرٹری شریک ہوئے۔ مذکورہ اجلاس بارے بھارتی میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق نریندرمودی کا کہنا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے“۔
سندھ طاس معاہدے 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا جس کے کشمیر سے گزرنے والے تین دریاوں سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کرلیا گیاچنانچہ پاکستان ایک اندازے کے مطابق ان دریاوں کا 80فیصد پانی استمال کرتا ہے۔ بھارت میں طویل عرصے سے ہندو انتہاپسندوں کا موقف رہا ہے کہ پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں میں رکاوٹیں ڈالنی چاہے تو دوسرا بھارت اپنے حصہ کا پانی زیادہ استمال کر ے تاکہ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا جاسکے۔ اڈی حملے کے بعد ایک بار پھر انتہاپسند ہندو تنظمیں پاکستانی دریاوں کا رخ موڈنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔
عالمی قانون کے ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں جو معاہدے بین الاقوامی قوائد وضوابط کی روشنی میں کیے جائیں ان میں کوئی ایک فریق انحراف کرلے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدے تفصیلی معاہدے ہے اس میں ایسی کوئی ایک بھی شق موجود نہیں کہ کوئی ریاست یک طرفہ طور پر اس پر نظر ثانی کرلے۔ اہم پہلو یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدے حکومتوںکی بجائے ریاستوں کے مابین طے پاتے ہیں جن سے نکلنا کسی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوا کرتا۔ ماہرین کے مطابق اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے نوٹس لیا جاسکتاہے۔
تاریخ طور سچ یہ بھی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس کا معاہدہ کروانے کے لیے پاکستان نے تین دریاوں ستلج ، بیاس اور راوی کے 26 ملین ایکڑ فٹ پانی کی قربانی دی۔نریندر مودی کا سندھ طاس معاہدے کو متازعہ بنانے والے پہلے بھارتی حکمران نہیں۔ اس سے قبل بھی مقبوضہ وادی کے وزیر اعلی شیخ عبداللہ، اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپائی بھی ایسا ہی کرچکے ہیں۔
شومئی قسمت سے نریندرمودی ا اس سچائی کو دل وجان سے قبول کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے ایمٹی قوت بن جانے کے بعد مسائل کو صرف اور صرف بات چیت کے زریعہ ہی حل کرنا ممکن ہے۔ بھارتی وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہے کہ سیاست میں کہا کچھ اور کیا کچھ جاتا ہے۔ پاکستان کو سبق سیکھانے جیسی باتیں جلسے جلوسوں میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ مودی کو دراصل بی جے پی کے ہی سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے سیکھنے کی ضرورت ہے جنھوں نے لاہور میں مینار پاکستان کے سایے میں پاکستان کو دل وجان سے تسلیم کرکے سیاسی دانشمندی کا ثبوت دیا۔
انہتاپسند ہندو تنظیم آرایس ایس کے فعال کارکن نریندر مودی سمجھ نہیں پا رہے کہ وہ اس وقت بھارت کے وزیراعظم ہیں جہاں ہندو اکثریت میں تو ہیں مگر مسلمان ، سکھ اور عسائیوں کی تعداد بھی کم نہیں چنانچہ آج سیکولر ازم محض نعرہ کی حد تک ہی محدود نہیں رہنا چاہے بلکہ بھارت میں آزاد خیالی عملا دکھائی بھی دے۔اگر بھارتی پالیسی ساز اس حقیقت پر دل جان سے یقین رکھتے ہیں کہ دنیا حقیقی معنوں میں گلوبل ویلج بن چکی تو انھیں اس کراہ ارض میں رہنے کے آداب وتقاضے بھی مدنظر رکھنا ہونگے۔
دنیا بھر کے سیاست دانوں بارے معروف یہی ہے کہ وہ ہر بدلی ہوئی صورت حال میں سرخرو ہونے کا فن جانتے ہیں۔ بدترین حالات میں بھی اپنے حمایتوں کو مطمعن کرنا ان کے لیے کبھی مسلہ نہیں رہا۔ شائد آنے والے دنوں میں مودی سرکار بھی کچھ ایسا ہی کرنے جارہی ہے ۔ امریکہ یا چین کی جانب سے مذاکرتی عمل بحال کرنے کی کوشیش اسی طرح رنگ لاسکتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت دوبارہ ٹبیل پر براجمان ہوجائیں۔ مذید یہ کہ اڈی واقعہ کی تحقیقات کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ ہوتے ہوئے تنازعات کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے پرایک بار پھر اتفاق کرلیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جان لیں کہ دونوں ملکوں میں مسائل صرف اور صرف بات چیت کے زریعہ ہی حل ہوسکتے ہیں۔ پاک بھارت چار باضابطہ جنگوں کا سبق بھی یہی ہے کہ کہ ایک دوسرے کو ختم تو نہیں کیا جاسکتا البتہ اچھے ہمسائیوں کی طرح ساتھ رہنا کسی صورت نامکنات میںنہیں ۔ آج یقینا پاکستان اور بھارت کے عوام کی اکژیت خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی چاہتی ہے چنانچہ بھارتی وزیراعظم اس حقیقت کو جس قدر جلد تسلیم کرلیں بھارت کے لیے اور خود ان کے لیے اتینا ہی سودمند رہیگا۔

Scroll To Top