ضروری نہیں کہ پاکستان میں ایک ہی قسم کا منظرنامہ چلتا رہے کبھی سول قیادت ٹانگیں پھیلائے اور فوجی قیادت ” مودبانہ “ انداز میں بیٹھی ہو اور کبھی فوجی قیادت کی ٹانگیں پھیلی ہوئی ہوں اور سیاست دان یا تو جلا وطن ہوں یا ہاتھ باندھے کھڑے ہوں 14-10-2009

ابلاغ عامہ کی دنیا میں میری موجودگی اتنے عرصے سے ہے کہ تقریباً تمام ہی اہم سیاسی جماعتوں کی اہم شخصیات سے میری ذاتی جان پہچان ہے۔ بعض کیسز میں یہ جان پہچان دوستی اور باہمی احترام کی حد تک ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ میرا تعلق تب سے ہے جب اس کے بانی قومی سیاست کے افق پر ایک فیصلہ کن انداز میں ابھرے تھے۔ یہ تعلق منفی بھی رہا ہے اور مثبت بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کسی نہ کسی حوالے سے میرا رابطہ ان کی زندگی کے آخری ایام تک رہا۔
جہاں تک مسلم لیگ (ن)کا تعلق ہے ` میری ذاتی دوستیاں اس جماعت میں زیادہ ہیں۔ اگرچہ 1991,1988اور 1993ءکے انتخابات میں پی پی پی کے پبلسٹی انچارج کی حیثیت سے میرا مقابلہ براہ راست مسلم لیگ (ن)سے ہی رہا ` مگر اس کے قائد میاں نوازشریف کے ساتھ میرے مراسم 1979ءسے ہیں جب وہ تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ 1984ءکے غیر جماعتی انتخابات میں میاں صاحب کی اشتہاری مہم میری کمپنی میڈاس کے پاس ہی تھی جس کی افتتاحی تقریب(1981)کی صدارت بھی انہوں نے ہی کی تھی۔ان کے علاوہ راجہ ظفر الحق ` سید جاوید ہاشمی ` اور جناب پرویز رشید سے میری خاصی گہری شناسائی ہے۔ کچھ اور نام بھی میں اس ضمن میں یہاں لے سکتا ہوں لیکن اس تمہید کا مقصد کچھ اور ہے۔
میں اپنی سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے برسہا برس کے تجربات سے ابھی تک سبق کیوں نہیں سیکھا۔ وہ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھی برطانیہ ` فرانس ` جرمنی اور امریکہ جیسا کوئی ملک ہے جہاں مملکت پر سویلین بالادستی اورحاکمیت کو مذہب کا درجہ حاصل ہے۔؟ وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ” روز اول“ سے ہی ایک ایسی مملکت ہے جس کی اولین ترجیح ” سکیورٹی “ رہی ہے ` اور جسے اپنے قیام کے پہلے ہی سال ایک جنگ لڑنی پڑی اور جو چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ایک معطل حالت جنگ میں ہے۔؟
انہیں کیوں اپنے ذہن میں یہ بات رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے کہ حالت جنگ میں رہنے کا مطلب ہر گز نہیں کہ بندوقیں اور توپیں دھاڑتی رہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج کی موجودگی ہی اس حقیقت کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی ہے کہ ہم دشمن کے ساتھ آنکھیں ملائے کھڑے ہیں؟
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ہماری ملٹری سٹیبلشمنٹ ` ہماری پولیس سٹیبلشمنٹ کی طرح نہیں کہ اسے سویلین حکومت کا ایک ایسا مطیع ادارہ تسلیم کرلیا جائے جو ہر لمحہ ہمارے سیاست دانوں کے احکامات کا منتظر رہے۔
اس قسم کی عیاشی صرف ان جمہوریتوں کو میسر ہے جہاں ” سیکورٹی“ کا مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ پاکستان میں سیاستدانوں نے جب بھی فوج کو ” سٹینڈاپ“ اور ” سٹینڈایٹ ایز“ کہنا چاہا ` اس کا شدید ردعمل ہوا۔ میاں نوازشریف سے بہتر یہ بات کون جانتا ہوگا ۔؟ اور جانتے آصف علی زرداری بھی ہوں گے۔
پھر بھی آج کل یہ شور مچا ہوا ہے کہ کیری لوگربل پر کور کمانڈرز نے کانفرنس کیوں کی۔ اور اگر کی تو بات خفیہ طور پر حکومت کے کانوں تک کیوں نہ پہنچائی گئی۔ پریس ریلیز کو کیوں جاری کیا گیا۔۔۔؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعتراض زیادہ تر مسلم لیگ (ن)کے لیڈر کررہے ہیں جن کے اعصاب پر ابھی تک جنرل پرویز مشرف سوار ہے۔ جنرل پرویز مشرف کو ملک پر مسلط کرنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی روز مسلم لیگ (ن)کو بالخصوص اور باقی سیاستدانوں کو بالعموم قبول کرنی پڑے گی۔
آمرانہ رویے صرف فوجی حکمرانوں کی اجارہ داری نہیں ہوا کرتے۔ ہمارے سول حکمران بھی ماشاءاللہ کم آمرانہ مزاج نہیں رکھتے۔
اگر پاکستان کو جمہوری نظام کے تحت دیرپا طور پر چلانا مقصود ہے تو کسی ایک ایسے ادارے کا قیام ناگزیر ہے جہاں سول اور فوجی قیادت مشترکہ طور پر بڑی نوعیت کے بڑے فیصلے کرسکے۔ کیری لوگر بل پر جو بھی فیصلہ ہوگا وہ بڑی نوعیت کا ہوگا۔ اور ہوگا بھی بڑا۔
ضروری نہیں کہ پاکستان میں ایک ہی قسم کا منظر نامہ چلتا رہے۔
کبھی سول قیادت ٹانگیں پھیلائے اور فوجی قیادت ” مودبانہ “ انداز میں بیٹھی ہو
اور کبھی فوجی قیادت کی ٹانگیں پھیلی ہوئی ہوں اور سیاست دان یا تو جلا وطن ہوں یا ہاتھ باندھے کھڑے ہوں

Scroll To Top