ڈونالڈٹرمپ اور میاں نوازشریف میں فرق Conflict of Interest

یہ ایک اصول اور ایک ڈاکٹر ائن ہے جس کا مقصد کاروبار کرنے والے لوگوں کو ایسے اختیارات حاصل کرنے سے روکنا ہے جو اُن کے کاروبار کو فروغ دینے کا باعث بنیں۔
اگر کوئی شخص کسی شہر کا میئر ہو تو شہر کی سبزی منڈیاں ` یا فروٹ مارکیٹس یا ایسی دوسری جگہیں اس کی ” کاروباری ملکیت“ میں نہیں ہونی چاہئیں۔
اگر وہ ملک کا وزیراعظم ہو تو اس کا کوئی بھی تعلق ایسے کسی کاروبار سے نہیں ہونا چاہئے جس پر کوئی بھی اثر حکومت کی درآمدی اور برآمدی پالیسی یا فیصلہ سازی کے اختیارات کا پڑتا ہو۔۔۔
اگرٹرمپ خدانخواستہ امریکہ میں صدارتی انتخاب جیت گئے تو وہ کاروبار کرنے والے دنیا کے دوسرے چیف ایگزیکٹو ہوں گے۔ اب تک یہ اعزاز صرف میاں نوازشریف کو حاصل ہے۔
میاں صاحب سے پہلے اس ضمن میں تھائی لینڈ کے ” تھک سن “ اور اٹلی کے ”برلسکونی “ کا بڑا چرچا تھا۔ یہ دونوں حضرات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاریخ کا حصہ بہرحال میاں صاحب کو بھی بالآخر بننا ہے۔آج نہیں تو کل۔ کل نہیں تو پرسوں۔۔۔
اہم بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کیا وہ حکومتی اختیارات کے ذریعے کاروباری فروغ کا حق اور اختیار اپنے وارثوں کو منتقل کرپائیں گے یا نہیں۔
مریم نواز پر پانامالیکس کی چھاپ لگ چکی ہے۔ اِسی وجہ سے اِس مرتبہ میاں صاحب اپنی بیٹی کی جگہ اپنی نواسی کو امریکہ لے گئے اور اسے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بٹھایا۔
ٹرمپ اور میاں صاحب دونوں بڑے پائے کے بزنس مین ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کے ساتھ ڈبیٹ میں برملا یہ کہہ دیا کہ ” میں کاروباری آدمی ہوں“۔۔۔ میاں صاحب ایسا کچھ کبھی نہیں کہتے۔ وہ صرف ترقی کی بات کرتے ہیں۔۔۔ گزشتہ روز عمران خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میاں صاحب اب تک ” اپنی ترقی “ کے ایجنڈے کی تشہیر کے لئے بیس ارب روپوں کی اشتہار بازی کرچکے ہیں۔
میرے خیال میں عمران خان کو ” حسد“ نہیں ہونا چاہئے۔ ترقی ترقی ہوتی ہے خواہ وہ پاکستان کی ہو یا میاں نوازشریف کی۔۔۔
پاکستان کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ ایک خبر کے مطابق موٹر وے کو گروی رکھ کر سلوک بانڈ جاری کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے۔
اس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوجاتی ہے کہ جناب اسحق ڈار کو اگر ” گروی“ رکھنے کے لئے کوئی معقول چیز مل جائے تو وہ بڑے سے بڑا قرضہ چٹکیوں میں حاصل کرسکتے ہیں۔۔ اور ابھی پاکستان کے پاس گروی رکھنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ خود ” پاکستان “ بھی تو موجود ہی ہے !

Scroll To Top