کرپشن ختم کرنی ہے تو کرپشن کا قلعہ گرانا ہوگا

اصولی طورپر معروف سابق ڈپلومیٹ اور حالیہ تجزیہ کار آغا ہلالی کا یہ موقف درست ہے کہ عمران خان جو مارچ اعلانیہ عزم کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کے لئے کررہے ہیں اس میں آصف علی زرداری کی پی پی پی کا ان کے شانہ بشانہ ہونا بے شمار لوگوں کو ہضم نہیں ہوگا۔
یہ بات آغا ہلالی نے چینل 92کے ایک پروگرام میں کہی جس کی اینکر پرسن شازیہ ذیشان ہیں۔ آغا ہلالی نے کہا کہ اگرچہ موجودہ حکومت نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑنے پر کمر باندھ رکھی ہے ` اس بات پر کافی حد تک اتفاقِ رائے پایا جاتاہے کہ جناب آصف علی زرداری کی پی پی پی کا دورِ حکومت کرپشن کی تاریخ میں بڑا ہی ” ممتاز“ مقام رکھتاہے ” اگر 30ستمبر2016ءکو پی پی پی کی فوجیں عمران خان کے ہمرکاب نظر آئیں تو جو لوگ کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے عمران خان کے ساتھ امیدیں باندھے ہوئے ہیں انہیں زبردست ذہنی دھچکا پہنچے گا۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو سولو فلائٹ پر ہی قناعت کرلینی چاہئے۔۔۔ ورنہ خود اُن کا اپنا امیج متاثر ہوگا۔۔۔۔“
لیکن میں آغا ہلالی کی اِس رائے سے ایک خاص نقطہ ءنظر سے اختلاف کرتا ہوں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ نون لیگ اور اس کی قیادت نے پورے حکومتی نظام کو جس انداز میں اپنے شکنجے میں جکڑ رکھاہے اور مختلف اداروں پر اسے جس قدر مکمل کنٹرول حاصل ہوچکاہے اس کے پیش نظر کرپشن کے خلاف ہر جنگ کا پہلا ہدف ان فصیلوں کو گرانا ہوناچاہئے جو شریف خاندان نے اپنے ” راج“ کے تحفظ کے لئے کھڑی کردی ہوئی ہیں۔
اس ضمن میں اگر سوویت یونین اور امریکہ کے اتحاد جیسا کوئی اتحاد قائم ہوسکتا ہے اور ہوجاتا ہے تو ” نازی جرمنی “ پر ضربِ کاری لگانا نسبتاً آسان ہوجائے گا۔
آپ یہ بات تو جانتے ہی ہیں کہ ایک دوسرے کے نظریاتی دشمن سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ1940ءمیں ہٹلر کے خلاف متحد ہوگئے تھے۔ اورنازی جرمنی کے قصہ ءپارینہ بن جانے کی ایک بڑی وجہ یہی اتحاد تھا۔
حالیہ سیاسی پس منظر کے ضمن میں یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ” کیا زرداری صاحب چاہیں گے کہ میاں نوازشریف قصہ ءپارینہ بن جائیں ۔۔۔؟“

Scroll To Top