انگورواقعی کھٹے ہیں ! 13-10-2009

دشمنوں سے خوش نیتی کی توقع ہرگز نہیں رکھنی چاہئے۔ اگر دشمن بدنیت نہ ہوں تو ہمیں پتہ کیسے چلے کہ وہ ہمارے دشمن ہیں؟
جی ایچ کیو پر حملے کے حوالے سے مغرب میں جو ردعمل سامنے آیا ہے ` وہ ہمارے دشمنوں کی بدنیتی کی بڑی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کا فوراً یہ بیان دے ڈالنا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور محفوظ ہیں بدنیتی سے خالی نہیں۔ انہیں اچانک ہمارے ایٹمی اثاثوں کا خیال کیسے آگیا ؟ راولپنڈی کے ایک بے حد مصروف سول علاقے میں قائم فوجی دفاتر کا ایٹمی اثاثوں سے کیا تعلق ؟ کیا ہم اپنے ایٹمی اثاثے چوراہوں کے قریب واقع عمارتوں میں رکھیں گے۔؟ اور کیا پاکستان کی فوج جی ایچ کیو میں آرام کررہی تھی کہ اس پر حملہ ہوگیا۔؟ حملہ گارے اور اینٹوں کی بنی ہوئی دو ایک بے ضرر سی عمارتوں پر ہوا جو دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہ لیاجائے کہ ایسے بزدلانہ حملے پاک فوج کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ اگریہ حملہ اس لئے ہوا کہ امریکہ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کو وہ بیان دینے کا موقع مل جائے جو انہوں نے دیا تو بھی اس میں ہمارے لئے اچھائی کا ایک پہلو ہے۔ ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کی نیتوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
بی بی سی کے تبصرہ نگار اور کچھ اپنے دانشور بھی یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کی فوج اپنے ہیڈکوارٹر کو حملے سے نہ بچا سکی۔ ان کی توجہ میں 9/11کے اس حملے کی طرف مبذول کراﺅں گا جس میں پینٹاگون کی عمارت کا بیشتر حصہ تباہ ہوگیا تھا اور جس کے پیدا کردہ خوف نے امریکہ کے صدر کو پتہ نہیں کس تہ خانے میں جاکر پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
اگر ہمارے ایٹمی اثاثوں تک پہنچنا ہمارے دشمنوں کے بس کی بات ہوتی تو وہ کبھی کے وہاں پہنچ چکے ہوتے!
انگور واقعی کھٹے ہیں !

Scroll To Top