انسانی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ!

میرا ایمان ہے اور میری حقیر رائے میں ہر مسلمان کا یہی ایمان ہونا چاہئے کہ آنحضرتﷺ کے ورود مسعود سے پہلے یہ دنیا دارالکفربن چکی تھی۔ اس دارالکفر میں اچھے لوگ بھی موجود تھے لیکن وہ سب روشنی کی تلاش میں اندھیروں کے اندر بھٹک رہے تھے۔ کرہ ءارض پر روشنی پھیلانے والے آخری نبیﷺ کا ظہور تقریباً ساڑھے چھ سو برس قبل ہوا تھا جن کے پیروکاروں نے اگرچہ اپنی پہچان اس عظیم پیغمبر یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام)کے نام سے کرائی مگر عملی طورپر وہ گمراہی کا شکار ہو کر دارالکفر کا حصہ بن چکے تھے۔
جب 610عیسوی میں آنحضرتﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور روئے زمین پر خدا کے آخری پیغام کے نزول کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ کرہ ءارض شمال سے جنوب اور مغرب سے مشرق تک ان عظیم انسانی اقدار کا مقتل بنا ہوا تھا جن کی ترویج کے لئے حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ(علیہ اسلام) تک منشائے الٰہی نے نبیوں کے بھیجنے کا سلسلہ قائم رکھا تھا۔ حضرت عیسیٰ(علیہ اسلام) کے اٹھائے جانے کے بعد چھ سو سال سے زیادہ عرصہ تک کوئی پیغمبر اور ہادی روئے زمین پر خدا کی حاکمیت بحال کرنے اور انسانی معاشرے کو قوانینِ خداوندی کے تابع بنانے کے لئے نہیں آیا تھا۔
اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ دنیا درندوں کی بستی بن چکی تھی جس میںکمزوروں کے مقدر میں طاقتور وں کا نوالہ بننا لکھا تھا،اور جس میںمعاشرے کی تقسیم ” حتمی “ پر دو طبقوں میں ہوچکی تھی ۔ ایک طبقہ حاکموں کا تھا اور دوسرا محکوموں کا۔ حاکم ہمیشہ حکومت کرنے کا اختیار لے کر دنیا میں آتے تھے اور محکوموں کے مقدر میں حاکموں کے اختیار کے سامنے ہمیشہ سرجھکاکر زندگی بسر کرنا ہوتا تھا۔ یوں تو ساری دنیا میں ہی جنگل کا یہ قانون چلتا تھا لیکن اگر کسی مخصوص خطہ ءارض کو اس قانون کا گہوارہ کہا جاسکتا ہے تو وہ حجاز تھا۔خدائے بزرگ و برتر نے ظلم و جبر کے اندھیروں میںڈوبے اس حجاز کو ہی ساری دنیا اور سارے ادوار کے لئے ہدایت اور روشنی کا مینار بننے کے لئے منتخب کیا جب آپﷺ نے پہلی بار مکہ والوں کو اِس ہدایت اور اِس روشنی سے فیضیاب ہونے کی دعوت دی تو جن لوگوں نے کان دھرے اُن کا شمار انگلیوں پر کیا جاسکتا ہے۔ تب کسی بھی شخص کے ذہن میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ خدا کی وحدانیت معبودیت اور حاکمیت کی طرف بلانے والے اس بطل ِ جلیل کی قیادت میں اندھیروں میں لپٹا ہوا حجاز بہت جلد روشنی کا ایک کاروان بن کر پوری دنیا میں پھیل جائے گا، اور پوری دنیا دارالکفر سے دارالاسلام بنتی چلی جائے گی۔
آپﷺ یقینی طور پر خدا کے آخری پیغمبر تھے مگر پھر بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ربع صدی کے اندر پوری دنیا کو انقلاب کی راہ پر ڈالنے کا معجزہ آپﷺ سے کیسے سرزد ہوا۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ جو مشرکین ِ مکہ و حجاز ایک عرصے تک آپﷺ کے خون کے پیاسے رہے اورجن کے ساتھ محاذ آرائی کرتے آپ ﷺ کی زندگی کا بیشتر حصہ گزرا ، وہ تقریباً سب کے سب آپ ﷺ کے وصال کے وقت کشور کشائی اور تسخیرِ عالم کی ناقابلِ یقین قوتوں سے مالا مال ہوچکے تھے۔؟
میری حقیر رائے میں انسانی تاریخ میں اس سے بڑا معجزہ کبھی نہیں ہوا۔ آنحضرتﷺ کی کرشمہ ساز شخصیت کے قرب نے چند برس کے اندر مدینہ میں ایسے رجال ِ عظیم کی فوج تیار کی جس کا ہر سپاہی دنیا فتح کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا۔
جب ہم اس عظیم معجزے کے بارے میں سوچتے ہیں تو پہلا نام بے اختیار حضرت ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) کا ہی ذہن میں آتا ہے پھر حضرت عمر فاروق(رضی اللہ عنہ)، حضرت عثمان غنی (رضی اللہ عنہ) ، حضرت علی(رضی اللہ عنہ)، حضرت طلحہ(رضی اللہ عنہ) ، حضرت عبدالرحمن بن عوف(رضی اللہ عنہ) ، حضرت زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہ) ، حضرت ابوعبیدہ بن جراح(رضی اللہ عنہ) ، حضرت سلمان فارسی(رضی اللہ عنہ) ، حضرت ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ)، حضرت زید بن حارث(رضی اللہ عنہ) ، حضرت ابو موسیٰ الشعری(رضی اللہ عنہ) ، حضرت زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) , حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) , حضرت عمرو العاص (رضی اللہ عنہ) ، حضرت عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہ) ،حضر ت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) ،حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) ،حضرت حذیفہ بن الیمن (رضی اللہ عنہ) ، حضرت سعد بن وقاص (رضی اللہ عنہ) ، حضرت مصعب بن عمیر (رضی اللہ عنہ) , حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) ، حضرت جعفر بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) ، حضرت عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) ، حضرت سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہ) ،حضرت خالد بن سعید (رضی اللہ عنہ) ، حضرت ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہ) ، حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) ، حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) , اور دیگر ان گنت صحابہ کرام کے اسمائے گرامی ذہن پر یلغار کرتے ہیں۔
تاریخ انسانی میں کبھی کسی ایک دور کے دوران اتنے عظیم مفکر ، ناظم ، فاتح اور عہد ساز ایک ساتھ جمع نہیں ہوئے تھے۔
اور اِن میں بہت سارے لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام کا پرچم اٹھانے سے پہلے اپنی زندگی کا کچھ یا کافی حصہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ محاذ آرائی میں گزارا تھا۔ اس میں چند بڑے نام تو ایسے ہیں جن کا ذکر یہاں ضرور کیا جانا چاہئے۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) نے فتح مکہ تک اپنی زندگی آنحضرتﷺ کو نیچا دکھانے کی جدوجہد میں گزاری تھی ۔؟ کون نہیں جانتاکہ آنحضرتﷺ کو جس جنگ میں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا اس میں کفار کے جرنیلوں میں حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کو مرکزی حیثیت حاصل تھی؟ کون نہیں جانتاکہ آنحضرتﷺ کے دشمنوں میں ابتدائی دورِ رسالت میں ابوجہل اور ابو لہب کے ساتھ ساتھ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا نام بھی آتا تھا؟
اتنے عظیم اور اسقدر باصلاحیت لوگ کس معجزے کے تحت اتنی انقلاب آفرین تبدیلی سے ایک ساتھ گزرے۔؟
اس سوال کا جواب دینے کے لئے ارسطو کی ذہانت نہیں چاہئے۔
معجزے کا نام حضرت محمد ﷺ تھا۔
کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی تصنیف ” محمدﷺ۔۔۔ ہمارے عہد کا پیغمبر“ (Mohammad-Prophet of our Time)میں لکھا ہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں اور یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ (حضرت محمد ﷺ واقعی خدا کے پیغمبر تھے)۔ لیکن پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ حجاز کے اس بطلِ جلیل کی پوری زندگی قتاّل و جدّال کی اس سرزمین کو ایک جدید پرامن مملکت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد میں گزری تھی۔ جس مغربی تہذیب نے اپنے مادیت پسندانہ مقاصد کے حصول کے لئے بیسویں صدی کی عالمی جنگوں میں بیس کروڑ انسان موت کے گھاٹ اتروا دیئے اس کے علمبرداروں کو محمدﷺ پر یہ الزام نہیں لگانا چاہئے کہ وہ جنگجو تھے۔ انہوں نے پوری زندگی میں جتنی بھی جنگیں لڑیں ان میں پانچ چھ ہزار سے زیادہ انسانی جانیں تلف نہیں ہوئیں۔ ان جانوں کے عوض حجاز کو وہ امن نصیب ہوا جس کی تلاش اسے صدیوں سے تھی۔ یہ امن ایک معجزہ تھا جو حضرت محمدﷺ نے کیا۔ اور یہ آپﷺ کا واحد معجزہ نہیں تھا۔ آپ ﷺنے اپنی زندگی میں اتنے سارے لوگوں کی کردار سازی کی کہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ آپﷺ کے ساتھیوں میں ہر شخص پیغمبرانہ خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ آپ ﷺ کا دوسرا معجزہ تھا ۔ آپﷺ کا تیسرا معجزہ تھا وہ کتاب جسے ہم قرآن کے نام سے جانتے ہیں۔ میں نے جس قدر بھی ریسرچ کی ہے اس کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ اسلام کو پھیلانے کا سہرا صرف اور صرف قرآن کے سر پر ہے۔ میں عربی نہیں جانتی تھی مگر جب بھی میں نے قرآن کی قرآت سنی مجھے یہی لگا جیسے کوئی آسمانی آواز ہم سے مخاطب ہو!“
میں نے یہاں کیرن آرمسٹرانگ کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ یہ خاتون موجودہ دور کی سب سے مستند محقّقہ ہیں۔
جب آپ ﷺ اس دنیا سے گئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی جماعت چھوڑ گئے جس کے سپرد دنیا کو دارالکفر سے دارالاسلام بنانے کی ذمہ داری تھی۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اُمتِ رسولﷺ درحقیقت ایک اُمت بھی ہے اور ایک جماعت بھی۔ اس جماعت کے ہوتے ہوئے کسی بھی مسلم ملک میں کسی دوسری جماعت کا موجود ہونا ایک بڑی بدعت ہے۔
اس جماعت کے اندر افکار اور نظریات کی بنیاد پر اختلاف ممکن ہے۔ پہلا اختلاف تو آپﷺ کے وصال کے فوراً ہی بعد آپﷺ کی جانشینی کے معاملے پر سامنے آگیا تھا۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ اس اختلاف کی بنیاد پر اُمتِ محمدی ﷺ تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ جب حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) اُمت ِ محمدیﷺ کے امیر بنائے گئے تو یکے بعد دیگرے ساری اُمت نے آ پ (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کی بنیاد اُسی وقت رکھ دی گئی تھی۔
ایک روایت کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) اکثر کہا کرتے تھے کہ ” میں آپﷺ کے جان نثاروں میں سب سے افضل نہیں ہوں ۔ آپ ﷺ کی صحبت نے ایسے ایسے باکمال لوگ پیدا کئے کہ میں اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں حقیر سمجھتا ہوں۔ لیکن اسے میں خدا کی مہربانی سمجھتا ہوں کہ اس کے نبیﷺ نے مجھے امامت کے قابل جانا، اور نبیﷺ کی اُمت نے مجھے اپنی قیادت کے منصب پر فائز کیا۔
٭٭٭٭٭

Scroll To Top