ہماری فاضل عدلیہ نے عافیت اللہ اللہ کرنے میں ہی سمجھی!!

ہمارے ملک میں لیڈورں کے بیانات بھی دو قسم کے ہوتے ہیں اور عدالتوں کے فیصلے بھی دو قسم کے۔ میاں نواز شریف نے ایک قسم کا بیان عدالت کے لیے دیا جو ”سچا “ تھا۔ اور دوسری قسم کا بیان پارلیمنٹ میں دیا جو ”سیاسی“ تھا۔ ”سیاسی“ کا مطلب ہماراعدالتی نظام بخوبی سمجھتا ہو گا کیوں کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت کو بھی ایک ”سیاسی“ فیصلہ کرنا پڑا۔
فیصلہ یہ تھا کہ ہمیں علم نہیں تھا کہ آگے چل کر چھٹیاں ہونے والی ہیں اور یہ کہ چیف جسٹس ریٹائر ہو جائیں گے۔ اگر علم ہوتا تو ہم اتنی لمبی لمبی تاریخیں نہ ڈالتے۔ اور نہ ہی شاید پانامہ لیکس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کرتے۔ اب ہم مجبور ہیں کہ”سچا“ فیصلہ کرنے کی ذمہ داری آنے والے چیف جسٹس کے قائم کردہ نئے بینچ پر چھوڑ جائےں۔ ویسے ”سچا“ فیصلہ ہم بھی کرسکتے تھے کیونکہ وزیر اعظم صاحب نے دو الگ الگ قسم کے بیانات دے کر ہمارا کام بڑا ہی آسان کر دیا تھا۔
یہاں ایک سوا ل ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ ”کیا سیاست واقعی جھوٹ کا دوسرا نام ہے“۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں بڑا اچھا سیاستدان ہے اور فلاں بہت برا سیاستدان ہے تو کیاا س کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں کو سچ بولنا نہیں آتا اور فلاںسے جھوٹ نہیں بولا جاتا….؟
ویسے جھوٹ بولنا بہت زیادہ مشکل کام نہیں بلکہ مشکل ہے ہی نہیں۔ تھوڑی بہت مشق ضرور کرنی پڑے گی۔ ضمیر کو ذرا خواب آور گولیاں کھلانی پڑیںگی۔ لیکن آہستہ آہستہ آپ اتنی سچائی کے ساتھ جھوٹ بولیں گے کہ خود آپ کو بھی اپنا جھوٹ سچا لگنے لگے گا۔ ہمارے حکمرانوں کو پورا پورا یقین ہو چکا ہے کہ پاکستان در حقیقت ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو چکا ہے اور یہ روزانہ کی بنیادوں پر جو اشتہارات چلائے یا چھاپے جاتے ہیں وہ سچ پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔
جھوٹ بولنے کا ایک نقصان البتہ ضرور ہوتا ہے کہ اسے آپ اپنے حافظے میں محفوظ نہیں کر پاتے جس کے نتیجے میں جب آپ کو نیا جھوٹ بولنا پڑتا ہے تو آپ کا پچھلا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔ پانامہ لیکس کے قصے میں یہی ہوا ہے۔
ہمارے جس فاضل بینچ نے یہ کیس سنا وہ اس بات پر ششدر ہو کر رہ گیا کہ اس قدر متضاد ”سچ“ اتنی کثرت کے ساتھ کیسے بول دیئے گئے۔ چنانچہ عافیت اس بینچ نے اللہ اللہ کرنے میں ہی سمجھی۔

Scroll To Top