تاریخ کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہوئی ہیں !

بات پھر ” کمیشن“ کی طرف جارہی ہے۔ کمیشن کی اصطلاح ہماری تاریخ میں ایک سفاک مذاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے نہایت قابلِ احترام چیف جسٹس جمالی اِس تلخ حقیقت سے نا آشنانہیں ہوں گے۔ وہ طلال چوہدری اور عابد شیر علی وغیرہ کے ان بیانات کا مطلب بھی سمجھتے ہوں گے کہ جس طرح نومبر خیریت سے گزر گیا اُسی طرح دسمبر بھی خیریت سے ہی گز ر جائے گا۔ حکمران ٹولہ کمیشن کے قیام کو خیریت ہی سمجھے گا اور خیریت ہی قرار دے گا۔ ۔۔ ماڈل ٹاﺅن والا کمیشن کسے یاد نہیں ہوگا۔۔۔ پھر 7دسمبر کے روز ہی `آنے والے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اعلان کرکے حکومت نے ” جان نثارانِ نوازشریف “ کے حوصلے بلند رکھنے کی جو کوشش کی ہے وہ بھی کسی تجزیے کی محتاج نہیں۔۔۔
حوصلے بلند رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔مگر ہمارے نہایت قابلِ احترام چیف جسٹس اور ” پاناما بنچ“ میں شامل اُن کے معزز رفقاءکو کچھ عوام کے حوصلوں کو بلند کرنے اور بلند رکھنے کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔۔۔ پاکستان ہمیشہ لُوٹے جانے کے لئے قائم نہیں ہوا تھا۔۔۔ اور پاکستان کے عوام کو آسمانوں سے یہ ہدایت نہیں ملی تھی کہ چپ چاپ لُٹتے رہو اور اِس نظام کو دعائیں دیتے رہو جو اُس چور کو بھی شک کا فائدہ دینے کے لئے تُلابیٹھا رہتا ہے جو مال مسروقہ سمیت رنگے ہاتھوں پکڑا جائے۔۔۔
” پاناما بنچ“ کے معزز ججوں کو یقینا قانون کے دائرے میں رہ کر ہی فیصلہ کرنا چاہئے مگر قانون کون سا۔۔۔؟ وہ جو اس مقدس مہینے میں پیدا ہونے والے بطلِ جلیل رجلِ عظیم اور ہستی ءبے مثال نے مدینہ میں رائج کیا تھا اور جسے پاکستان میں رائج کرنا ہمارا طے شدہ اجتماعی نصب العین ہے ؟ یا پھر وہ جسے اس ملک کو طالع آزماﺅں کی شکار گاہ بنانے والوں نے اپنی سہولت کے لئے بنایا ہے ؟
خدا کرے کہ اگر کمیشن کا قیام ناگزیر ہی ہے تو ایسا کمیشن قائم ہو جو اِس بات کو یقینی بنائے کہ 2017ءمیں طلوع ہونے والا پہلا ہی سورج اس قوم کے دکھی چہرے پر مسکراہٹیں بکھیردے گا۔۔۔

Scroll To Top