روس شام میں بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے: امریکہ

اقوام متحدہ میں امریکہ کے مندوب نے شام کے شہر حلب میں بمباری کے تناظر میں روس پر ’بربریت‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں امریکی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ روس نے کونسل کو شام میں اپنی کارروائی کے بارے میں جو بتایا وہ صاف جھوٹ تھا۔

 

شام میں حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق حلب میں شامی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے اب تک ایک ہفتے کے دوران دو سو سے زیادہ عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ روس شام میں انسداد دہشت گردی میں نہیں بلکہ بربریت میں ملوث ہے۔

سمانتھا پاور نے سلامتی کونسل میں بتایا کہ روس اور شام نے حلب میں حکومت مخالف باغیوں پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور وہ جنگی جرائم کے مرتکب بھی ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ شامی فوجیں حلب میں عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچا کر شہر سے دہشت گردوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

روسی سفیر وتالی شرکن نے یہ نہیں کہا کہ اس میں روسی فوجیں بھی شامل تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام میں امن کا قیام ’اب تقریباً ناممکن کام ہے۔‘


روس کی جانب سے جنگ بندی کے حالیہ معاہدے کے خاتمے کے بعد حلب میں بمباری کی بھی تردید کی گئی ہے

انھوں نے حکومت مخالف مسلح گروہوں پر جنگ بندی کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ ’امن کے بجائے، روس اور اسد جنگ کر رہے ہیں۔ شامیوں کو جان بچانے والی امداد فراہم کرنے کے بجائے روس اور اسد ہسپتالوں اور طبی عملے پر بمباری کر رہے ہیں۔‘

اجلاس کے دوران کئی ممبران کی جانب سے کہا گیا کہ پیر کو روس کی جانب سے امدادی قافلے پر بمباری کرنے پر جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب روس نے اس حملے کی تردید کی ہے جس میں 31 امدادی ٹرکوں میں سے 18 ٹرک تباہ ہوگئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس تباہی کی ذمہ دار باغیوں کی بمباری یا امریکی ڈرون ہیں۔

روس کی جانب سے جنگ بندی کے حالیہ معاہدے کے خاتمے کے بعد حلب میں بمباری کی بھی تردید کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ شام کا شمالی شہر حلب ملک میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی میں اہم جنگی محاذ رہا ہے۔


شام کی فوج کی جانب سے بمباری میں سنیچر کو مزید 25 افراد ہلاک ہوئے

اتوار کو فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا تھا کہ وہاں موجود امدادی کارکنوں کے مطابق ملبے سے نکالے گئے زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے۔

ایک ہسپتال کے مطابق سینچر کو ہسپتال میں 43 فیصد بچوں کو طبی امداد مہیا کی گئی جبکہ شام کی ایمبولینس سروس کے عملے کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جن افراد کو ہسپتال منتقل کیا ان میں 50 فیصد بچے شامل تھے۔

گذشتہ ہفتے جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد سے شام کی حکومت نے حلب پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں اب تک 45 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام کی فوج کی جانب سے بمباری میں سنیچر کو مزید 25 افراد ہلاک ہوئے جبکہ گذشتہ روز 45 افراد مارے گئے تھے۔

کارکنان کا کہنا تھا کہ حلب پر بمباری کے لیے روس اور شام کے جنگی طیارے مشترکہ طور پر کارروائی کر رہے ہیں لیکن روس نے اس کارروائی میں اپنی شمولیت کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا ہے۔

دوسری جانب شام کے ان چار علاقوں میں امداد پہنچی ہے جہاں فوج کے محاصرے کی وجہ سے کئی ماہ سے کسی قسم کی امداد نہیں پہنچ پائی تھی۔

Scroll To Top