ٹرمپ، کلنٹن اور ٹی وی کا ڈرامہ

آج (پیر) کی رات کا سب سے دلچسپ ٹی وی ڈرامہ شاید سیاسی نوعیت کا ہو کیونکہ آج امریکی صدارت کے انتخابی دوڑ کا ایک اہم مرحلہ طے پائے گا۔ یعنی دونوں امیدواروں کے درمیان ٹی وی مباحثوں کے سلسلے میں پہلا مباحثہ ہو گا۔

امریکہ میں سب کی نظریں آج کے مباحثے پر ہیں اور میڈیا میں اس پر کافی بات ہوئی ہے کیونکہ ماضی میں صدارتی دوڑ کا ایسا ٹی وی مقابلہ کبھی دیکھنے میں آیا ہی نہیں ہے جس میں دو خاصے غیر روایتی امیدواروں کا آمنا سامنا ہو رہا ہو۔ ٹرمپ ’آوٹ سائیڈر‘ ہیں، رپبلکن پارٹی کے امیدوار نہیں تھے اور اپنی کامیابی کے بعد نامزد ہوئے، اور کلنٹن اس عہدے کے لیے پہلی خاتون امیدوار ہیں۔

مباحثہ سے کیا توقع کی جا رہی ہے؟ کئی پہلو ہیں جن پر بات ہو رہی ہے۔

تیاری کس قسم کی ہوگی؟

رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ پھٹ انداز ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ بنی ہے لیکن جب سے ان کی نامزدگی پکی ہوئی ہے ان کے بیانات میں نمایاں فرق آیا ہے اور ان کا رویہ نسبتاً محتاط ہوا ہے۔

لیکن ٹرمپ آج کی بحث میں کس طرح کا رویہ اختیار کریں گے؟ اس کے لیے ان کی تیاری کس قسم کی کرائی گئی ہوگی؟

صحافی اور پارلیمانی امور کی ماہر شازیہ رفیع کہتی ہیں کہ ٹرمپ کے مشیروں نے ان کی تیاری میں دو مشورے ضرور دیے ہوں گے۔’میرے خیال میں ان کی ٹیم ان کو سمجھا رہی ہوگی کہ زیادہ اپنے منہ کو چلنے نہ دیں، الٹی سیدھی باتیں نہ کریں اور اعداد و شمار اور حقائق پر توجہ دیں، ان کو حفظ کر لیں کیونکہ مباحثے میں چیزیں چیلنج ہوتی ہیں۔‘

کلنٹن کی تیاری کے بارے میں شازیہ رفیع کہتی ہیں کہ ’مِسز کلنٹن بہت سنجیدہ امیدوار ہیں اور کبھی کبھی ٹیلی وژن سے ان کے بارے میں یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے وہ ایک استانی ہیں۔ تو میرے خیال میں ان کی تیاری اس انداز سے کی جا رہی ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ پرکشش اور ’لائیک ایبل‘ طور پر پیش کریں۔‘

امریکہ کے سیاسی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر احسان احراری کہتے ہیں ’کلنٹن بہت مضبوط امیدوار ہیں، بہت تجربہ کار ہیں اور پالیسی کو بہت اچھی طرح سے جانتی ہیں اور اگر پالیسی پر بات ہوتی ہے تو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ۔۔۔ لیکن اگر ٹرمپ نے اپنی کوششوں سے مباحثہ کا رخ بدل دیا اور وہ بات کو پالیسی سے دور لے جاتے ہیں تو پھر ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ٹرمپ لڑاکو قسم کا مباحثہ کرنے والے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مباحثے کا رُخ کس جانب جاتا ہے۔‘

ٹرمپ کا غیر روایتی انداز ان کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ بقول شازیہ رفیع ’مباحثے کے لیے ٹرمپ کو کافی پڑھائی کرنی پڑے گی۔ لیکن میڈیا کے ساتھ کھیلنا ٹرمپ کو زیادہ آتا ہے۔ وہ مذاق مذاق میں بھی چیزوں کو الٹا کر سکتا ہے۔‘

مباحثہ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

کسی بھی انتخابی دوڑ میں ٹیلی وژن مباحثے کی اہمیت اور اثر کی بات ہو تو ہمیشہ کینڈی اور نِکسن کا ذکر آ جاتا ہے۔ سنہ 1960 میں صدارت کے ان دونوں امیدواروں کے درمیان ٹی وی مباحثے نے جان ایف کینیڈی کو ایک نسبتاً غیر معروف سینیٹر سے ایک مشہور شخصیت میں تبدیل کر دیا تھا۔

احسان احراری بتاتے ہیں ’اس مباحثے کے بارے میں یہ لکھا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے ٹی وی پر اس مباحثے کو دیکھا انھوں نے فیصلہ کیا کہ کینیڈی جیتا، لیکن جنھوں نے اس کو ریڈیو پر سنا انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ نِکسن جیت گیا۔‘

’نکسن نے اپنے آپ پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ تھکا ہوا لگ رہا تھا، داڑھی بڑھی ہوئی تھی حالانکہ بیچارے نے شیو تو کیا تھا لیکن صبح اور شام تک شیو بڑھی ہوئی تھی۔ لیکن کینیڈی نے شیو کیا ہوا تھا، میک اپ لگایا ہوا تھا۔ نکسن تھکا ہوا اور نروس معلوم رہا تھا جبکہ کینڈی نوجوان اور صحتیاب دکھائی دے رہا تھا۔ تو ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ ٹی وی نے کینیڈی کو جتا دیا۔‘

شازیہ رفیع کا بھی کہنا ہے کہ ٹیلی وژن بہت اہم ہے ’کیونکہ امریکہ میں کافی حد تک الیکشن ٹی وی پر ہی لڑا جا رہا ہے‘۔

اینٹی اسٹیبلِشمنٹ ووٹروں کا پہلو کتنا اہم ہے؟

شازیہ رفیع کہتی ہیں اس مرتبہ صدارتی انتخاب میں امریکی ووٹروں کے حوالے سے ایک بڑی انوکھی صورتحال پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں پارٹیوں کے ووٹروں کی بڑی تعداد نے روایتی سیاستدانوں کو رد کیا ہے اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ ’ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر برنی سینڈرز کے حامی کلنٹن کو اسٹیبلشمنٹ سے جڑا تصور کرتے ہیں اور ان کی حمایت نہیں کرنا چاہتے۔ مسٹر ٹرمپ مسٹر سینڈرز کی طرح ایک آؤٹ سائیڈر ہیں، پارٹی سے باہر رہنے والے امیدوار ہیں، تو ان کو کافی حمایت ہے۔ ووٹر دونوں جماعتوں کے مین سٹریم سے خفا ہیں۔‘

مبصرین کہتے ہیں کہ یہ ایک انوکھی صورتحال ہے اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات ہی اس الیکشن کا فیصلہ کر سکتے ہیں کیونکہ لوگوں کے غم اور غصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے ووٹ کو ایک احتجاج کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

بدمزگی اور تلخ کلامی کے امکانات

مباحثے میں بدمزگی، تلخ کلامی اور ذاتیات پر اترنے کے امکانات کیا ہیں؟ یہاں بھی ٹرمپ کا کردار اہم ہے۔

ڈاکٹر احراری کہتے ہیں ’میڈیا پر ٹرمپ کی باتوں پر اتنی تنقید کی گئی ہے کہ ہو سکتا ہے وہ مباحثے میں آرام سے پیش آئے۔ لیکن اگر اس کو غصہ آگیا اور اس کا جارحانہ موڈ بن گیا تو اس کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔‘

تاہم ڈاکٹر احراری نے مزید کہا کہ مباحثے کے دوران امیدواروں کی کارکردگی جو بھی ہو اصلی بات یہ ہے کہ مباحثے کے جائزے اور ریٹینگ سیاسی مبصرین کس طرح کریں گے۔

’دا مارننگ آفٹر کی اہمیت‘

ٹی وی مباحثے کے فوراً بعد اس پر تبصرے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

ایک تو سچ و صداقت کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس نے کتنا سچ بولا یا نہیں بولا۔ بقول ڈاکٹر احسان احراری ’جو تبصرے مباحثے کے بعد ہوتے ہیں اس میں امریکی میڈیا امیدواروں کی کافی دھلائی کردیتا ہے۔ ’پینٹس آن فائر‘ نامی ایک پروگرام میں مباحثے میں جائزہ لیا جاتا ہے کس امیدوار نے سچ کہا، کس نے جھوٹ کہا۔‘ یوں ٹی وی کے ’مارننگ آفٹر‘ پروگراموں کی اہمیت بہت ہے۔

لیکن ڈاکٹر احراری یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلی مباحثے کا نتیجہ فیصلہ کن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آگے دو مباحثے اور ہیں اور امیدوار اور اینکر اپنے انداز میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

آج کا مباحثہ امریکی ریاست نیو یارک میں واقع ہوفسٹرا یونیورسٹی میں ہو رہا ہے اور این بی سی کے اینکر لیسٹر ہولٹ میزبانی یا ماڈریٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایک اندازوں کے مطابق اس کو ایک کروڑ کے قریب لوگ دیکھیں گے۔

دوسرا مباحثہ 9 اکتوبر کو ہے اور آخری 19 اکتوبر کو ہونا ہے۔ الیکشن کی تاریخ آٹھ نومبر ہے۔

اس انتخابی دوڑ کا یہ پہلا مباحثہ خاصی دلچسپ رہے گا کیونکہ پالیسی پر بات ہو یا نہ ہو، تماشے اور ڈرامے کا بہرحال امکان ضرور ہے۔ (ٹرمپ ماڈریٹر پر جانبداری کے الزامات لگا چکے ہیں اور ایک روز پہلے انھوں نے یہ کہانی بھی چلا دی تھی کہ وہ ہلیری کلنٹن کے شوہر اور سابق امریکی صدر بِل کلنٹن کے ایک سیکس سکینڈل کی اہم کردار جینیفر فلاورز کو مباحثے میں مدعو کر رہے ہیں۔)

Scroll To Top