انگلینڈ، جعلی آن لائن پروفائل پر مقدمہ

Is it Illegal to Make a Fake Facebook Profile

انگلینڈ اور ویلز میں وکلا کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جعلی آن لائن پروفائل کے ذریعے دوسروں کو خوف و ہراس کا شکار کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ ایسے بالغ افراد پر مقدمہ چلے گا جو کسی شخص کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر غلط معلومات فراہم کر کے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے۔

قانونی کارروائی سے متعلق رہنما اصولوں میں کئی نئے جرائم بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں سے ایک بدلے کے لیے کی گئی پورنوگرافی بھی ہے۔

سی پی ایس کے رہنما اصولوں میں بتایا گیا ہے کہ ان جرائم کے لیے کس طرح موجودہ قوانین کو استعمال کیا جائے۔

نئی مجوزہ تبدیلیوں کے لیے چھ ہفتوں پر مشتمل مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشنز کے ڈائریکٹرز ایلیسن سانڈرز کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے جب شواہد اور مشتبہ شخص کے آن لائن اور آف لائن رویے کا جائزہ لیا جائے۔ ‘

’آن لائن استحصال انتہائی بزدلانہ اقدام ہوتا ہے اور یہ متاثرہ انسان کے لیے بہت پریشان کن ہوتا ہے۔‘

جعلی اکاؤنٹ اور ویب سائٹس کو لوگوں کی جعلی پروفائلز بنا کر ان کی جانب سے باعثِ شرمندگی پیغامات اور تصاویر پوسٹ کرنے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سی پی ایس کا کہنا ہے کہ یہ ایک حملے کے مترادف ہے جیسے کہ ہتک آمیز گفتگو اور ہراس۔‘

ایسے دھوکے بازوں نے اپنے سابقہ پارٹنرز کے جعلی اکاؤنٹ بنائے تاکہ نئے لوگوں کو راغب کیا جا سکے اس عمل کو ’کیٹ فیشنگ‘ کہا جاتا ہے۔

یہ دھوکے باز ’لِنکڈ اِن‘ پر بھی لوگوں کے جعلی پروفائلز بناتے ہیں۔

Scroll To Top