سکھوں کی خالصتان ریاست کیلئے پاکستان سے سفارتی مدد کی اپیل

سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک خالصان کے رہنما امرجیت سنگھ نے بھارت سے علیحدہ ریاست بنانے کے لئے پاکستان سے مدد کی اپیل کی ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں سکھ رہنما امرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ خالصاان ریاست بنانے کے لئے پاکستان سکھ برادری کی سفارتی مدد کرے، اگر پاکستان خالصتان ریاست بنانے میں سکھوں کی سفارتی مدد کرے تو ہم بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے اڑی میں بھارتی فوج اڈے پر حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر امرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اپنی ریاستی دہشت گردی چھپانے کے لئے پاکستان پر الزام  لگا رہی ہے، ایسے حالات میں جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی زوروں پر ہے تو ایسے میں پاکستان کو حملہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی اندرونی صورت حال سے ہر وقت باخبر رہنے کے لئے خصوصی فنڈز مختص کر کے پولیس افسران کو مقبوضہ ریاست میں تعینات کر رکھا ہے جو ہر بھارت کے لئے مخبری کرتے ہیں۔

امرجیت سنگھ نے بھارتی حکومت کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے 2002 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کا دورہ کرنا تھا تو ان کی آمد سے قبل خالصہ تحریک سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کے لئے 35 سکھوں کو قتل کیا گیا۔

Scroll To Top