آرٹس کونسل میں سہ روزہ فلمی موسیقی میلہ آج سے سجے گا

کراچی: آرٹس کونسل میں سہ روزہ کراچی موسیقی میلے کا اعلان کردیا گیا جو آج بروز جمعہ 25 نومبر سے 27 نومبر تک جاری رہے گا۔

فیسٹیول کا اعلان چیئر مین کراچی میوزک فیسٹیول محمد احمد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صدر آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، خازن شہناز صدیقی اور چیئر مین میوزک کمیٹی کاشف گرامی بھی موجود تھے۔ احمد شاہ نے کہا کہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ آرٹس کونسل میں ثقافتی و تہذیبی سرگرمیاں زور و شور سے جاری رہیں، تھیٹر فیسٹیول کا انتہائی والہانہ ریسپانس ملا، لوگوں کا جم غفیر اُمڈ آیا تھا، آرٹس کونسل لوگوں کو معیاری تفریح فراہم کرنے کا جذبہ رکھتا ہے اسی سلسلے میں موسیقی فیسٹیول کا انعقاد کررہے ہیں۔

احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی موسیقی اس کی فلمی موسیقی ہے، ایک زمانہ تھا جب ہماری فلمی موسیقی کی دھوم دنیا بھر میں تھی جس کی گونج اب تک سنائی دیتی ہے لیکن اب معیار وہ نہیں رہا آج وہ میوزک نہیں سنائی دیتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ایسے لوگ نہیں رہے جیسے ماضی میں تھے، اب وہ موسیقی ترتیب نہیں ہورہی جس کی چھاپ اور دُھن صدیوں تک ذہنوں میں رہے، ۔ انہوں نے کہا کہ گانا گانے والا مشہور ہو جاتا ہے لیکن اس کی وہ دھن جو اس گانے کی اصل پہچان ہے جس کے سنتے ہی گانا ذہن و زبان پر آجاتا ہے اس دھن کے خالق کو کوئی نہیں جانتا، ہماری یہ کوشش انہی لوگوں کو پہچان دینے کے لیے ہے اس کے لیے آرٹس کونسل نے ایک کتابچہ بھی تیار کیا ہے جس میں موسیقاروں کی تصاویر اور تفصیلات کے علاوہ ان کے ایسے گانوں کی تفصیل بھی موجود ہے جو اس فیسٹیول میں گائے جائیں گے۔

فیسٹیول سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جن موسیقاروں کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے اُن میں ماسٹر غلام حیدر، رشید عطرے، خواجہ خورشید، فیروز نظامی، جی اے چشتی، ماسٹر عنایت حسین، اے حمید، ناشاد، نثار بزمی، ایم اشرف، سہیل رعنا، روبن گھوش، خلیل احمد، صفدر حسین، ماسٹرعبداﷲ، کمال احمد، نذیر علی، مصلح الدین، وزیر افضل، سلیم اقبال، لال محمد اقبال، دیبوبھٹا چاریہ، اختر حسین(اکھیاں)، بشیر احمد، حسن لطیف(لِلَک)، طافو، امجد بوبی، ذوالفقارعلی، ایم ارشد، بخشی وزیر، تصدق حسین، ماسٹر منظور حسین، کریم شہاب الدین شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کے مایہ نازموسیقاروں میں اور بھی بہت سے معروف موسیقار ایسے تھے جن کے نام اس فیسٹیول میں شامل نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے فلمی گانے پروڈیوس نہیں کیے۔

فیسٹیول میں جہاں معروف گلوکار حصہ لے رہے ہیں وہیں نوجوان گلوکاربھی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے ان میں غلام عباس، ظفر رامے، اشتیاق بشیر، اخلاق بشیر، سویرا علی، عروسہ علی، صبح، نائلہ سلیم، نمرہ،فرحت، شاہ زیب،کرم عباس، ارمان اور 50 سے زائدگلوکار شامل ہیں جو کئی دنوں سے ملک کے بڑے اور نامور موسیقاروں کے ساتھ ریاض کر رہے ہیں۔

احمد شاہ نے کہا کہ ایک خاص بات اس فیسٹیول کی یہ بھی ہے کہ اس میں جو بھی گانے پیش کیے جائیں گے اس کو خاص اسی انداز سے گایا جائے گا جس انداز میں ان موسیقاروں نے ان گانوں کو پیش کیا تھا اور اس بات کی پابندی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنے اساتذہ کو یاد کرنا چھوڑ دیا ہے جب کہ آج ہم اپنے کام میں انہی لوگوں کونقل بھی کر رہے ہیں جب صورتحال ایسی ہو جائے تو چیزیں خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور ایسا ہو بھی رہا ہے اس لیے ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ ہم اپنے ورثے کو یاد کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

چیئر مین میوزک کمیٹی کاشف گرامی نے کہا کہ فیسٹیول میں پیش کیے جانے والے سارے گانے ایسے ہیں جو سنتے ہی آپ کے ذہنوں میں ماضی کے خوبصورت زمانے میں کھو جائیں گے۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی میوزک فیسٹیول کو لوگوں تک پہنچانے میں ہمارے بہت بڑے مددگار ہیں انہی کے ذریعے لوگوں تک ہمارا پیغام اور کام پہنچتا ہے جو اس ملک اور شہر کے لیے اور اس کی فن وثقافت کی ترویج کے لیے ہے۔

Scroll To Top