پھیپھڑوں کے انفیکشن سے بچانے والی حجاب نما پوشاک تیار

برلن: خصوصاً ایتھلیٹ خواتین و حضرات کے لیے منہ اورسر کو ڈھانپنے والا ایک لباس تیار کیا گیا ہے جو سردیوں کی باعث انفیکشنز اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

یہ پوشاک دیکھنے میں ایک حجاب جیسی ہے جوپاکستانی خواتین بھی استعمال کرتی ہیں۔ اس میں ایک بیٹری لگی ہے جو سرد ہوا کو گرم کرکے منہ میں داخل کرتی ہے اوریوں پہننے والا سردی لگنے اور انفیکشن سےبچ سکتا ہے۔

اسے جرمنی کی کمپنی نے تیار کیا ہے جس میں چارج ہونے والی ایک چھوٹی بیٹری لگی ہے اور اس کے لیے ٹوپی کے اندر ایک جیب بنائی گئی ہے۔ اسے الیکٹرونک لباس کا نام دیا ہے جس میں منہ اور ناک کے پاس باریک تار ہیں جو گرم ہوکر اندر آنے والی ہوا کو سرد سے گرم بناتے ہیں۔

اسے پہننے والا کسی بھی طرح کی بجلی کو محسوس نہیں کرتا اور اسے خاص طور پر اسے افراد کے لیے بنایا گیا ہے جو سردیوں میں جاگنگ اور ورزش کرتے ہیں۔ اس لباس کو ڈیزائن کرنے والے انجینئر کا کہنا ہےکہ یہ تو اسمارٹ ٹیکسٹائل کی محض ایک جھلک ہے اور ہم اس سے بھی حیرت انگیز لباس تیار کرسکتےہیں۔

کپڑے میں باریک تار اس احتیاط سے سموئے گئے ہیں کہ وہ نہ ہی چبھتے ہیں اور نہ ہی ان کا خفیف کرنٹ چہرے پر محسوس ہوتا ہے جب کہ دوڑنے والے کو مسلسل حرارت فراہم ہوتی رہتی ہے۔ اس سے ایتھلیٹ اور دوسرے کھلاڑی سردی کے امراض اور پھیپھڑوں کے انفیکشن سے بچ سکتے ہیں۔ اسے خاص طور پر مشین سے دھلائی کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ ہر پہننے والوں کو فٹ آتی ہے جسے کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پینسلوانیہ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسا لباس بھی بنایا تھا جو زخموں کو مندمل کرنے میں مدد کرتا ہے تاہم یہ لباس بھی کئی طرح کے امراج سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل فون چارج کرنےوالے لباس پر بھی کام جاری ہے۔

Scroll To Top