اگر پاکستان چیکو سلو ویکہ ہوتا۔۔۔۔

بھارت کے نیتا آگ اگل رہے ہیں ۔مقبوضہ کشمیرمیں زور پکڑتی جدوجہد آزادی نے نئی دہلی کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اور حواس باختگی میں بھارتی وزیر اعظم جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں اُن سے یہ تاثر پیدا ہوئے بغیر نہیں رہ پا رہا کہ برصغیر عنقریب جنگ کے موڑ پر پہنچنے والا ہے۔ اگر پاکستان چیکو سلو ویکہ ہوتا تو بھارت اب تک اس پر چڑھ دوڑا ہوتا۔ بالکل اسی انداز میں جس انداز میں گذشتہ صدی کے دوران متذکرہ ملک پر کبھی جرمنی تو کبھی سویت یونین چڑھ دوڑا کرتا تھا۔
مگر پاکستان چیکو سلو ویکہ نہیں ہے۔
پاکستان نے28مئی 1998کی سہ پہر کو دنیا پر واضح کر دیا تھا کہ اگر کسی بھی دشمن نے اس کی ایک انچ زمین پر بھی نظرِبد ڈالی تو پورا برصغیر راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔
جنگ ایک ایسا آپشن ہے جو برصغیر میں تب ہی اختیار کیا جائے گا جب نئی دہلی یا اسلام آباد دونوںمیں سے کسی ایک جگہ بھی کوئی ”مستندپاکل “ اختیارات کی کرسی میں بیٹھا ہوگا۔
اگر دو برابر کی ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ ممکن ہوتی تو امریکہ ویت نام سے شکست آمیز پسپائی پر مجبور نہ ہوتا۔ امریکہ کی ”بدقسمتی“ یہ رہی کہ ”ہیروشیما“ اور ناگا ساکی “ کا زمانہ بہت پیچھے رہ گیا تھا اور دنیا ایک ایسے زمانے میں داخل ہو چکی تھی جس کے بارے میں ولیم شرر نے ”نازی جرمنی کے عروج وزوال“ نامی کتاب کے دیباچے میں لکھا تھا۔۔”اب اگر روئے زمین پر کبھی کوئی سنجیدہ جنگ لڑی جائے گی تو اسے شروع کرنے والے پاگل ہوں گے کیوں کہ جنگ کے آغاز اور اختتام کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوگا۔ایسی جنگ میں نہ تو کوئی فاتح ہوگا اور نہ کوئی مفتوح۔ کیوں کہ روئے زمین پر صرف راکھ کے ڈھیر ہوں گے، بکھرے ہوئے اعضا ہوں گے اور پتھرائی ہوئی آنکھوں والے لاشے ہوں گے۔۔“
مجھے یقین ہے کہ مودی اپنی تمام تر ”آتش بیانیوں“ کے باوجود ایسی دماغی حالت میں داخل نہیں ہوئے جس کے بعد آدمی کا گھر پاگل خانے میں ہوتا ہے۔
مگر ہمیں اُن کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ ان کی وجہ سے ہماری سیاست میں ان لوگوں کے ”جذبے“ سرد پڑ چکے ہیں جو امن کی آشاو¿ں کے” دیپ“ جلا رہے تھے اور جن کے ”زرخیز“ ذہنوں سے ایک ہی فلسفلہ نکلتا تھا کہ ترقی کرنی ہے تو بھارت سے بغلگیر ہو جاو¿۔
اُن کے اسی فلسفے کے سحر میں آکر ہمارے وزیر اعظم نواز شریف بھارتی وزیر اعظم مودی سے بغلگیر ہوئے۔۔ اس ”بغلگیری“ کی ایک وجہ اگر چہ یہ بھی ہے کہ میاں صاحب ایک عرصے سے اپنی کاروبای سلطنت کو برلا ٹاٹا امبانی مِتل اور جندال وغیرہ کی صف میں شامل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
میں نے اوپر جو باتیں لکھی ہیں اُن کا مطلب یہ ہرگز نہیں لیا جانا چاہئے کہ بھارت پاکستان پر جنگ نافذ اور نازل نہیں کرے گا۔بھارت نے ہم پر ایک عرصے سے ایک بڑی ہی خوفناک جنگ نافذ اور نازل کر رکھی ہے۔ اس جنگ میں بھارت کے جرنیل اور سپاہی صرف کلبھوشن یادیو جیسے لوگ ہی نہیں، محمود خان اچکزئی اور اسفندیار ولی خان جیسے لوگ بھی ہیں۔ براہمداغ بگٹی اور الطاف حسین جیسے لوگوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔
اس جنگ کو اگر پاکستان نے جیتنا ہے تو اس سوچ کو تہ تیغ کرنا ہوگا جو ہمیں اکثرنئی دہلی کے ساتھ پریم کے رشتوں میں باندھنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ یہ سوچ ہمارے پرائم منسٹرہاو¿س میں بھی موجود ہے اور ہمارے میڈیا میں بھی۔
پاکستان کی دائمی بقا کی جنگ پاک قوم اور پاک فوج کو مل کر جیتنی ہوگی۔

Scroll To Top