آئی ایس آئی دلِ اہرمن میں کانٹے کی طرح کیوں کھٹکتی ہے؟ 28-09-2008

ممتاز ا نگریزی روزنامے ”دی نیوز“ کے گروپ ایڈیٹر جناب شاہین صہبائی نے ”فرینڈز آف پاکستان کانفرنس“ کے نتائج کے حوالے سے جو کچھ اپنے اخبار میں لکھا ہے وہ میرے خیال میں اہل پاکستان کے لئے بے پناہ تشویش کاباعث بننا چاہئے۔
شاہین صہبائی لکھتے ہیں:
”امریکہ اور پاکستان کے اکابرین ایک ایسے سمجھوتے اور لائحہ عمل کی تشکیل کے قریب پہنچ رہے ہیں جس سے بعض نہایت حساس اور سنگین معاملات پر اتفاق رائے ہو جائے گا۔ ان حساس اور سنگین معاملات میں اہم ترین مسئلہ ایسے ”جہادی عناصر“ سے نمٹنا ہے جنہیں پاکستان کے خفیہ اداروں کا تحفظ حاصل ہے۔“
صاف لگتا ہے کہ نیویارک میں ”سودا“ اس بات پر ہو رہا ہے کہ جو کچھ جنرل مشرف نہ کر پائے وہ اب پی پی پی کی قیادت اپنے مینڈیٹ کی قوت سے کرے۔ صدر مشرف نے واشنگٹن کی خوشنودی کے لئے اپنے تئیں بہت کچھ کیا۔ اتنا کچھ کیا کہ بالاخر اپنی ”کرسی“ ہار بیٹھے۔ جو ”کارنامہ“ ان کے ہاتھوں انجام نہ پا سکا وہ پاکستان کی سیکریٹ سروس ”آئی ایس آئی“ کی کمر توڑنا تھا۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ یہ کارنامہ اب صدر زرداری کی حکومت انجام دے۔ آئی ایس آئی دہلی کے دل میں بھی، تل ابیب کے دل میں بھی اور سب سے بڑھ کر واشنگٹن کے دل میںبھی”کانٹے“ کی طرح کھٹکتی ہے۔ اس ”کانٹے“ کی”ضرررسانی“ کے خاتمے کے لئے کیبنیٹ ڈویژن سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کرایا گیا تھا جس پر عمل درآمد ہونا ممکن ہوتا تو آئی ایس آئی کے ڈی جی آج شایدرحمان ملک ہوتے اور اس کی “اعلیٰ کمان“ کے اجلاسوںمیں میڈم این پیٹرسن مبصر کی حیثیت سے شرکت کیا کرتیں۔
واشنگٹن کی یہ خواہش قابل فہم ہے کہ پاکستان میں ”سی آئی اے“، ”موساد“ ، ”را“ اور ”خاد“ وغیرہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کےلئے ”فری ہینڈ“ ملنا چاہئے۔
مجھے یقین نہیں آتا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت صرف اس وجہ سے اس خواہش کی تکمیل کے لئے ”موزوں“ اقدامات کرسکتی ہے کہ اسے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہے۔

Scroll To Top