” اڈی سکیڑ کاروائی کے ثبوت بھارت کے پاس نہیں“

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ اڈی سیکڑ میںہونے والے حملے کا کوئی ثبوت خود بھارت کے پاس موجود نہیں تو پھر پاکستان کن افراد کے خلاف کاروائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ڈی جی ملڑی آپریشن سے ایک بیان منسوب کیا گیا کہ انھوں نے پاکستان سے واقعہ کے ثبوت مانگے ہیں مگر بعد میں انھوں نے خود ہی اس خبر کی تردید کردی۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اڈی سیکڑ کی جواب دہی انڈیا ہی کو کرنی ہے اس کے علاوہ انڈیا ہی کو جواب دینا ہوگا کہ ان کی قیادت نے پاکستان پر الزامات کیوں لگائے۔ “
اڈی سیکڑ میں واقعہ میں جو عناصر بھی ملوث ہیں وہ یقینا بھارت کے نہیںپاکستان کے دشمن ہیں۔ اڈی واقعہ کی آڈ میں بھارت جس طرح کشمیر میں جاری ظلم وستم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشیش کررہا ہے وہ اس سوال کو نمایاں کررہا کہ آخر کار مودی سرکار کو اس ڈرامہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ درحقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے جتنے مرضی پاپڑ بیل لے کشمیر سے پاکستان کی صورت توجہ نہیں ہٹ سکتی۔
تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ جمعہ کو کرفیو کے نفاز کے باوجود ہزاروں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف سرنگر میں مظاہرے کیے ۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں کم وبیش 30 سے زائدکمشیری زخمی ہوگے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کشمیریوں کو احتجاج سے نہ روک سکی ۔ مقبوضہ وادی میں گذشتہ 77دن سے کرفیو کا نفاذ ہے۔ گذشتہ ہفتوں میں کشمیر کی تمام بڑی مساجد،درگاہوں میں جمعے کے علاوہ کہیں عید کی نمازیں نہیںہوسکیں ۔ رواں سال آٹھ جولائی کو نوجوان کمانڈر مظفر وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں جس شدت سے مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں وہ گذشتہ تیس سالوں میں نہیں ہوئے۔ بھارتی فوج کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک 80سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ مقبوضہ وادی میں 77 دن سے ہی بھارت نے وادی میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ کا رابطہ منقطع کیا ہوا جس سے مقبوضہ علاقہ عملا باقی دنیا سے کٹ کررہ گیا ہے۔
دراصل یہی کشمیر میںجاری یہی وہ حالات ہیں جو بھارتی حکومت کو عملا بوکھل کر رکھ گے۔بھارت سرکار ان وجوہات پر توجہ دینے کو تیار نہیں جن کے سبب وادی میں صورت حال اس نہج کو پہنچ چکی ۔ بھارت دنیا کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکنے کی پالیسی پر عمل پیراءہے۔ مودی سرکار کسی طور پر یہ ماننے کو تیار نہیں عصر حاضر میں تلخ حقائق کو تادیر چھپانا ممکن نہیں رہا۔بھارت کمشیر پر عالمی برداری کی توجہ ہٹانے کے لیے اس حد تک جا پہنچا کہ اس نے اپنے ہاں جنگ کا سا ماحول پید ا کردیا ۔ بھارتی میڈیا میں تواتر ایسی خبریں آرہی ہیں کہ نریندری مودی کی زیر صدارت ایسے اجلاس منعقد ہوئے جس میں پاکستان پر حملے آور ہونے کے مختلف طریقوں پر غور خوص کیا گیا۔
بھارت کو بڑی طاقتوں خصوصا امریکہ کی آشیرباد ہو یا موجودہ کشیدیگی بڑھانے کی وجہ کچھ اور ایک بات بہرکیف طے ہے کہ حالات خراب ہونے سے کچھ فائدہ نہیں ہونے والا۔ بظاہر نریندی مودی اپنے طرزعمل سے یہ ثابت کرررہے ہیں کہ ان کے اندر کا انتہاپسند وزیراعظم بن جانے کے بعد بھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ پوری طرح متحرک بھی ہے۔ جوانی کے جوش میں جنونی ہونا تو سمجھ میں آنی والی بات ہے مگر وزارت عظمی کے عہدے پر پہنچ کر جب کوئی بوڈھا بھی ہوشمندی سے کام لینے پر تیار نہ ہوں تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔
کسی نے خوب کہا ہے کہ خود کو جاہل ثابت کرنا کسی کی اجارہ داری نہیں بلکہ کوئی بھی کسی بھی وقت اس کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ پاکستان پر بھارت کی جانب سے حملے کا امکان نہیں مگر ایسے پرتشدد گروہ سے کچھ بھی امید کی جاسکتی ہے جو ایک طرف تو نفرتوں کا بیوپاری ہو اور دوسری طرف وہ برسر اقتدار بھی آجائے۔ عالمی برداری کو یقینا اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہے کہ پاکستان اور بھارت میں ایٹمی قوت بنے کے بعد جنگ کا خطرہ اب موجود نہیں رہا۔ پاکستان بارے تو یقینا یہ بات وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی طور پر بھارت سے جنگ کرنے کا متمنی نہیں مگر بھارتی ادارے ہرگز نیک نہیں۔ ضرب عضب کی شکل میں ملک کے طول وعرض میں پہلے سے ایسی لڑائی جاری ہے جس کے حقیقی خاتمے کی کوئی بھی تاریخ نہیں دی جاسکتی۔ پاکستانیوں کا نہ نظر آنے والا دشمن کبھی بھی کہیں بھی انھیں نشانہ بنا سکتا ہے۔ ملک کی سیاسی ومذہبی قوتیں اس پر بڑی حد تک قائل ہیں کہ اگر تعمیر وترقی کا سفر جاری رکھنا ہے تو ہر دوسرے ممالک سے کہیں بڑھ کر ہمسایہ ملکوں سے تعلقات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس قول کی سچائی سے کوئی بھی باشعور شہری انکار نہیں کرسکتا کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں مگر ہمسایہ نہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی حقیقی معنوں میں شائنگ انڈیا کے نعرے کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو انھیں نفرت اور انتقام کی سیاست سے تائب ہونا ہوگا۔ ایسا ممکن نہیں کہ بھارت ایک طرف مقبوضہ وادی میں ظلم وستم کے کشمیریوں پر پہاڈ توڈتا رہے اور دوسری جانب پاکستان سے امن اور محبت کی توقع رکھے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اڈی حملے بارے جو کچھ کہا بظاہر وہی حقیقت ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ بھارت جنگی جنوں کو بڑھانے کی بجائے پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات پر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کا آغاز کرڈالے جن کی ضرورت خطے میں امن اور خوشحالی لانے کے بدستور موجود ہے۔

Scroll To Top