جنگ ایک نہیں ہے دو ہیں! 27-09-2008

مرکز میں یوںتو حکمران اتحاد کی حکومت ہے مگر خارجہ امور اور سلامتی کے معاملات میں تمام فیصلے ایک ہی جماعت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کررہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ”فیصلے“ کرنے کا اختیار پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت تک محدود ہے۔ اور جب تک صدر آصف علی زرداری آئین کو اپنی اصل شکل میں واپس لانے کے وعدے پر عملدرآمد کرانے کے لئے ضروری اقدامات نہیں کرتے اس وقت تک وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بھی ”بااختیار قیادت“ کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
مطلب اس بات کا یہ ہوا کہ ”دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ“ اور امریکہ کے حوالے سے ہماری جو بھی خارجہ پالیسی زیر تشکیل ہے اس کی ”اونرشپ“ صرف اور صرف صدر آصف علی زرداری کو قبول کرنی ہوگی۔ اگر وہ تمام ”زیرغور اور زیرفیصلہ“ معاملات کو پارلیمنٹ میںلاکر ایک وسیع تر قومی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد امریکہ جاتے تو انہیں نہایت ہی حساس اور نازک نوعیت کے فیصلے کرنے کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ اٹھانا پڑتا۔
بہرحال جو ہو چکا وہ ہوچکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ”پاکستان حالت جنگ میں ہے“ اور ”یہ جنگ ہماری ہے“ جیسے بیانات پر مبنی جو حکمت عملی زیر تشکیل ہے وہ کیا ہوگی اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔
بہت ساری باتیں اسرار کے پردوں میں چھپی ہوئی ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ جو ”فیصلہ ساز ذہن“ ہیں ان کے اندر اس بات کا ادراک ضرور ہونا چاہئے کہ اس وقت ہمارے خطے میں دو جنگیں لڑی جارہی ہیں۔ایک جنگ وہ ہے جو9/11 کے بعد امریکہ نے مسلط کی تھی اور جس کا مقصد افغانستان پر قبضہ تھا۔ اور دوسری وہ جو نامعلوم قوتوں نے پاکستان کو معاشی تباہی اور معاشرتی وسیاسی عدم استحکام کاشکاربنانے کے لئے شروع کر رکھی ہے۔
یہ دوسری جنگ یقینی طورپر ہماری ہے۔ مگر اسے جیتنے کے لئے لازمی ہوگا کہ ہم اس جنگ سے اپنے رشتے ختم کردیں جو امریکہ افغانستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے لڑ رہا ہے۔

Scroll To Top