ماحولیاتی تبدیلی بیشتر پودوں اور رینگنے والے جانوروں کو جلد ختم کردے گی

ایریزونا: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جانوروں اور پودوں کی بیشتر انواع میں دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول (کلائمیٹ چینج) کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں اس لئے خطرہ ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا سے ان کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔

وہ جاندار جنہیں تیز رفتار عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے معدومیت کا خطرہ ہے ان میں پودوں کے علاوہ ہوام (رینگنے والے جانور مثلاً چھپکلیاں) اور جل تھلئے (پانی اور خشکی، دونوں پر رہنے والے جانور مثلاً مینڈک) خاص طور پر شامل ہیں۔

یہ مطالعہ ایریزونا یونیورسٹی میں کیا گیا جس میں پودوں، کیڑے مکوڑوں، جل تھلیوں، پرندوں، ممالیوں اور ہوام کی 266 انواع میں ماحولیاتی تبدیلیوں (خاص طور پر بارش اور درجہ حرارت میں تبدیلی) کے مطابق خود کو ڈھالنے کی فطری صلاحیت (مطابقت پذیری یا adaptability) کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ بیشتر جانداروں میں تیز رفتار عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو بدلنے کی مناسب صلاحیت موجود نہیں، وہیں یہ بھی پتا چلا کہ جل تھلیوں، ہوام اور پودوں میں خود کو بدلنے کی شرح بہت سست ہے؛ یعنی تیزی سے رونما ہونے والی عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی بقاء کی ضمانت مہیا کرنے میں وہ سب سے کمزور ہیں۔

ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ منطقہ حارہ (ٹراپکس) کے معتدل ماحولیاتی علاقوں (ٹیمپریٹ زونز) میں رہنے والے جانداروں کو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے دوسرے علاقوں میں پائے جانے والے جانداروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

واضح رہے کہ ہر جاندار اپنی غذا، نشوونما اور بقاء کےلئے اپنے ارد گرد موجود ماحول پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جبکہ درجہ حرارت اور بارشوں میں تبدیلی سے اس پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔ پرندوں اور ممالیوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک جگہ کا ماحول تبدیل ہونے پر کسی دوسرے علاقے میں چلے جائیں تاکہ زندہ رہ سکیں جبکہ ماحولیاتی درجہ حرارت میں تبدیلی کے باوجود وہ اپنا جسمانی درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے بھی بہت سخت جان ہیں کیونکہ ان میں حالات بدلنے پر خود کو بہت تیزی سے تبدیل کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

لیکن پودوں، ہوام اور جل تھلیوں کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے کیونکہ یہ عام طور پر کسی ایک مخصوص علاقے تک ہی محدود رہتے ہیں جبکہ ان میں اپنا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی بہت کم ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بعض علاقوں (مثلاً بارانی جنگلات) کا ماحولیاتی نظام بہت نازک ہوتا ہے جو عالمی پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں سے بہت جلد اور زیادہ متاثر بھی ہوجاتا ہے۔

یہ اور ان جیسی کئی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پودوں، ہوام (ریپٹائلز) اور جل تھلیوں (ایمفی بیئنز) کو مستقبل میں معدومیت کا سب سے شدید خطرہ ہوگا اور اگر ماحولیاتی تحفظ کےلئے ہنگامی اقدامات نہ کئے گئے تو اس خدشے کو حقیقت بننے میں کچھ زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا۔

یہ تحقیق ’’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی: بائیالوجیکل سائنسز‘‘ نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

Scroll To Top