کرپشن کو آئینی تحفظ دے دیا جائے تاکہ پاناما لیکس جیسے معاملات پرعدالت کا وقت ضائع نہ ہو

(میرا یہ کالم07-03-2010کو شائع ہوا تھا آج کے حالات نے اس کی اشاعت ِمقرّر ناگزیر ہے)
عدلیہ کے فیصلوں کے حوالے سے کرپشن کے احتساب کے معاملے میں قوم کے ساتھ جو مذاق ہورہا ہے ` میرے خیال میں اسے ختم کیا جائے اور کرپشن کو ایک ناگزیر سیاسی و معاشرتی ضرورت قرار دے کر آئینی تحفظ دے دیا جائے۔ نظریہ ضرورت یوں بھی کافی عرصے سے ہماری آئینی اور سیاسی تاریخ کا حصہ بنا ہوا ہے۔ اس کا اطلاق کرپشن کے شعبے پر کرنے سے کوئی طوفان نہیںآئے گا۔
جس جرم کا خاتمہ ممکن نہ ہو ` یا اس کے خاتمے کے لئے جس ارادے (will)کی ضرورت ہوتی ہے وہ موجود نہ ہو یا جسے ثابت کرنا مروجہ آئینی طریقہ کار کے مطابق جوئے شیر لانے سے کم نہ ہو ` اسے جرم سمجھتے رہنا بغیر مقصد بے شمار ” شرفا“ کو شرمندہ کرنے اور حالت شرمندگی میں زندگی بسر کرتے رہنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔
اس ضمن میں مجھے وزیراعظم صاحب کا ایک حالیہ انٹرویو یاد آرہا ہے جس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا۔
” اگر کسی کے پاس کسی کی کرپشن کا کوئی ثبوت موجود ہے تو سامنے لائے۔“
ظاہر ہے کہ کرپشن کا ارتکاب کوئی بھی شخص ثبوت ریکارڈ کرانے کا اہتمام کرکے نہیں کرتا۔ کرپشن خود اپنا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے۔ اگر دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا کوئی کارندہ اپنے بچوں کو ایسے سکول میں پڑھا رہا ہو جہاں کی ماہانہ فیس اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے تو اس کے کوئی نہکوئی خفیہ ذرائع آمدنی رکھنے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے۔
اگر ہمارا کوئی لیڈر کئی کروڑ ڈالر غیر ملکی بینکوں میں رکھتا ہے ` اور اس کا کوئی ” کاروباری اور ٹیکس“ ریکارڈ موجود نہیں ہوتا تو اس کو کرپشن سے پاک صرف ایک ہی صورت میں قرار دیا جاسکتا ہے کہ کرپشن کو اخلاقیات کے دائرے سے نکال دیا جائے اور اسے بھی اسی طرح ایک معزز شہری تسلیم کیا جائے جس طرح نماز کو اپنی زندگی سے خارج کئے رکھنے والا شخص مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے۔ (حالانکہ قرآن میں مسلمان کی پہچان ہی نماز سے کرائی گئی ہے)۔
مجھے یہ کالم اس خبر کو پڑھ کر لکھنے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ متعلقہ ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے کرپشن کے تمام الزامات سے جناب عثمان فاروقی کو یہ کہہ کر بری کردیا ہے کہ ملزم کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں۔ پہلی بات تو میں یہاں یہ کروں گا کہ ہمارے ملک کی نچلی عدلیہ کرپشن کے معاملے میں دنیا کی ہر عدلیہ کو مات دینے کی” شہرت“ رکھتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بری ہونے والے ملزم کے برادر سلمان فاروقی صدر زرداری کے پرنسپل سیکرٹری ہونے کی بناءپر اتنے ہی طاقتور ہیں جتنے طاقتور صدر مشرف کے زمانے میں جناب طارق عزیز تھے۔
اگر عثمان فاروقی نیک پاک صاف ہیں تو پھر کیا وہ خبریں ہم نے خوابوں میں پڑھی تھیں جن کا تعلق لاکروں کروڑوں کی نقدی اور زیورات برآمد کئے جانے سے تھا۔؟
پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں ریکارڈ توڑ کرپشن ہوتی ہے۔
مگر آج تک کسی کے بھی خلاف کرپشن ثابت نہیں کی جاسکی۔
پھر اسے شوق یا مشغلے کو جرم سمجھنے کا کیا فائدہ۔؟

Scroll To Top