ہوسکتا ہے کہ زرداری صاحب کو پرواز سے پہلے ہی جہاز سے اترنا پڑے!

آصف علی زرداری نے تقریباً اعلان کردیاہے کہ وہ عنقریب پاکستان کے سیاسی افق پر براہ راست جلوہ افروز ہوں گے۔ جنرل راحیل شریف 29نومبر 2016 ءکو آرمی چیف کا ” خطرناک“ عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آصف علی زرداری صاحب کو جنرل راحیل شریف سے کیا خطرہ تھا۔ اور انہیں یہ یقین کیسے ہے کہ ” پاکستان آرمی “ جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد اُس ” جمہوریت“ کی سرپرستی کی ذمہ داری سنبھال لے گی جس کی پرچم برداری نے میاں صاحب اور زرداری کو ” پائیدار بھائی چارے“ کے رشتے میں منسلک کررکھا ہے؟
بظاہر یوں لگتا ہے کہ 27دسمبر2016ءکے بعد میاں نوازشریف کو گھر بھیجنے کا مشن بلاول بھٹو اور چوہدری اعتزاز احسن کی پاکستان پیپلزپارٹی سنبھال لے گی۔ لیکن کیا یہ قدرت کا کرشمہ نہیں کہ ” جنگ و جدل“ سے بھرپور مکالموں کے اس ماحول میں میاں صاحب کے سینے میں جہانگیر بدر کی ” شاندار خدمات“ کا درد اٹھا اور وہ مرحوم کے خاندان اور مرحوم کی جماعت کے ساتھ اظہارِ یگانگت کے لئے مرحوم کے گھر چلے گئے؟
جو ہفتہ آج سے شروع ہورہا ہے وہ اپنے اندر امکانات کا طوفان لئے ہوئے ہے۔یوں تو ہر سُو سناٹا ہے۔ صرف اِکّا دُکّا بیانات آرہے ہیں لیکن کوئی بھی سناٹا ٹوٹے بغیر نہیں رہتا۔
اس سناٹے میں دو آوازیں آج بھی ابھری ہیں۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پی پی پی 27دسمبر2016ءکے بعد جو طبلِ جنگ بجائے گی اس میں کوئی ” یوٹرن“ نہیں ہوگا۔ اور بلاول بھٹو زرداری نے فرمایا ہے ۔ ” میاں نوازشریف کا احتساب کرنا سپریم کورٹ کے بس کی بات نہیں۔ میاں نوازشریف کا احتساب اس بل کی منظوری کے ذریعے ہوگا جو پی پی پی نے تیار کررکھا ہے۔“
بلاول بھٹو اور چوہدری اعتزاز احسن دونوںنے یہ نہیں بتایا کہ متذکرہ بل منظور کرا کر میاں نوازشریف کیوں خود اپنے احتساب کا راستہ ہموار کریں گے۔
سیاست واقعی جھوٹ بولنے اور فریب دینے کا کھیل ہے۔ اور یہ کھیل دل کھول کر کھیلا جارہا ہے۔
لیکن کیا یہ قوم ہمیشہ جھوٹ کی خریدار بنی رہے گی ۔؟ کیا فریب کھانا اس کے مقدر سے خارج نہیں ہوگا؟
ان سوالوں کا جواب بہرحال مستقبل ہی دے گا۔ ہوسکتاہے کہ زرداری صاحب کو پرواز سے پہلے ہی جہاز سے اترنا پڑے۔ اور ہو یہ بھی سکتا ہے کہ کچھ ایسا ہوجائے کہ انگلی میاں صاحب کے دانتوں میں پھنسی رہ جائے۔ فی الحال یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ جیت کس کی ہوگی۔۔۔ میاں +زرداری برانڈ کی جمہوریت کی ؟ یا پھر اُن امیدوں کی جو باربار دم توڑنے کے بعد بھی سینے میں دفن نہیں ہوتیں؟

Scroll To Top