مصباح الحق کی ریورس سویپ اور نون لیگ کا جشنِ کامرانی

آپ کو ٹی ٹوئنٹی کے ورلڈ کپ کا وہ فائنل میچ یاد ہوگا جس میں مصباح الحق ایک یقینی شکست کو فتح کے اس قدر قریب لے گئے تھے کہ صرف ہاتھ آگے بڑھا کر مصافحہ کرنے کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ عین اس وقت مصباح الحق نے ایک ناقابل یقین شاٹ کھیلا (ریورس سویب) اور ایک یقینی فتح آنسوو¿ں میں بدل گئی۔
مگر پی ایم ایل این کی آنکھوں میں آج کل خوشی کے آنسو ہیں۔ گذشتہ روز پرائم منسٹر ہاو¿س میں ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں غورکیاگیا کہ آرمی چیف کو شایان ِشان کس طرح رخصت کیا جائے اور اُن کی بیش بہا خدمات کو کیسے خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔
میاں نواز شریف اور اُن کے ”رفقائ“ کی نظروں میں جنرل راحیل شریف کی جو ”خدمت“ سب سے زیادہ بیش بہا ہے وہ ان کا وہ غیر متزلزل عزم ہے جس سے انہوں نے ”جمہوریت“ کا تحفظ کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جس ”جمہوریت“ کا تحفظ کیا گیا ہے اس نے ”جمہور“ کو اتنی بے رحمی سے ”عدم تحفظ“ کا شکار بنا رکھا ہے کہ کروڑوں لوگ پتھرائی ہوئی نظروں سے اُس مستقبل کو پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنرل راحیل شریف نے بہت ساری امیدیں وابستہ کرائی تھیں یہ ورلڈ کپ تو ہارا جا چکا ہے۔ اب اگلے ورلڈ کپ کا انتظار کرنا ہوگا۔۔
جس جمہوریت کے تحفظ کے لئے جنرل راحیل شریف نے ”ریورس سویپ“ کھیلی ہے اس کے ثناخواں چمکتی ہوئی فتحمند نظروں کے ساتھ خوش فہم عوام کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔ ” ہم نے کہا تھاناں کہ جمہوریت جیت جائے گی اور پاکستان ہار جائے گا۔؟“
لیکن آخری فیصلہ ”اِس جمہوریت“ کے ثناخوانوں کا نہیں ہوگا جس نے جمہور کی کمر دوہری کر کے رکھ دی ہے۔ آخری فیصلہ قدرت ہی کرے گی۔ اور قدرت کو یہ منظور نہیں ہو سکتا کہ جس ملک کو اسلام کا گہوارہ بننا ہے وہ طالع آزماو¿ں کی شکار گاہ بنا رہے۔۔۔

Scroll To Top