حلب: باغیوں کےاہم گڑھ پر حکومتی فوج کا قبضہ

صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے حلب میں باغیوں کے ایک اہم گڑھ ’ہندرات کیمپ‘ پر قبضہ کرلیا ہے۔

ہندرات دفاعی اعتبار سے بہت اہم ہے کیونکہ یہ ایک اونچے مقام پر واقع ہے جہاں سے شہر میں آنے والے راستے پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔

دریں اثنا شہر میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر سرکاری افواج کی بمباری جاری ہے اور سنیچر کو بھی شام کی سرکاری افواج کی جانب سے شہر میں بمباری کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شامی افواج نے شہر میں میں تازہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے شہر حلب پر ہونی والی حالیہ شدید بمباری کے نتیجے میں تقریباً 20 لاکھ افراد کو پانی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق جمعے کو ہونے والی بمباری کے باعث باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں پانی فراہم کرنے والے پمپ سٹیشن کی مرمت نہیں کی جاسکی۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود پانی نکالنے والا دوسرا پمپ بھی بند ہے۔

ادارے کےڈپٹی ڈائکٹر جسٹن فورتھسائٹ کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ حلب آہستہ آہستہ مر رہا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے، تازہ ترین غیر انسانی حرکت یہاں بمباری اور لوگوں کا پانی بند کرنا ہے۔‘

اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ شام میں جنگ کے خاتمے کیے لیے روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی حفاظت ضروری ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہی۔

روسی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب شام میں جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ چکا ہے اور شامی فوج حلب کے مختلف علاقوں کو باغیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے وہاں بمباری کر رہی ہے۔

سرگئی لاوروف نے باغیوں کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی۔

Scroll To Top