وکی لیکس: غداری کی مرتکب چیلسی کو قیدِ تنہائی کی سزا

امریکہ میں ایک فوجی انضباطی بورڈ نے غداری کے الزام میں قید انٹیلیجنس کی ماہر خاتون چیلسی میننگ کو 14 دن کی قیدِ تنہائی کی سزا سنا دی ہے۔

چیلسی میننگ کے وکیل کے مطابق ان کی موکلہ کو یہ سزا اس جرم میں سنائی گئی ہے کہ انھوں نے اس سال جولائی میں خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اس سزا کے دوران چیلسی میننگ کو سات دنوں کے لیے فوج سے معطل کیے جانے والے دیگر سات افراد کے ساتھ رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ فوج کے لیے خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنے کی ماہر اور فوج میں پرائیویٹ کی حیثیت میں کام کرنے والی چیلسی میننگ غداری کے الزام میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ کچھ عرصے سے وہ بھوک ہڑتال پر تھیں، تاہم گذشتہ ہفتے فوج کی جانب سے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے پر رضامندی کے بعد چیسلی میننگ نے ہڑتال ختم کر دی تھی۔ انھیں ’جینڈر ڈِسمورفیا‘ کا مرض ہے جس میں مریض محسوس کرتا ہے کہ پیدائش کے وقت اس کو غلط جنسی شناخت دی گئی تھی۔

بریڈلی میننگ کے مردانہ نام سے پیدا ہونے والی چیلسی میننگ نے گزشتہ جولائی میں قید کے دوران خود کشی کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا فوج کی جانب سے مناسب علاج کی سہولت فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے کیا تھا۔

جمعرات کو ریاست کینساس کی ایک جیل کے حکام نے اپنے فیصلے میں چیلسی میننگ کو ’ایسے رویے کا مرتکب پایا تھا جس سے ان کی اپنی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ انضباطی بورڈ نے انھیں اپنے پاس ایسا مواد بھی رکھنے کا مرتکب پایا جس پر پابندی ہے۔ حکام کے مطابق چیلسی سے گیبریالا کولمین کی کتاب ’ہیکر، ہوکسر، وسل بلوور، سپائی‘ برآمد ہوئی تھی۔


Image captionبریڈلی میننگ کے مردانہ نام سے پیدا ہونے والی چیلسی میننگ نے گزشتہ جولائی میں خود کشی کی کوشش کی تھی

چیلسی میننگ کے حامیوں نے ان کا ایک بیان ذرائع ابلاغ کو جاری کیا ہے جس میں چیلسی کا کہنا تھا کہ ’میری سزا 14 دن کی قیدِ تنہائی ہے، جس میں سات دن کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔ اگر میں اگلے چھ ماہ کے دوران پھر کوئی غلط کرتے پائی جاتی ہوں تو مجھے سات معطل کیے جانے والے دنوں کی سزا بھی کاٹنا پڑے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے۔ میں تنہائی محسوس کر رہی ہوں۔ میں اس فیصلے پریشان ہوں اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اس فیصلے پر کیا کہوں۔‘

یاد رہے کہ چیلسی میننگ کو ان سفارتی مراسلوں اور میدان جنگ کی رپورٹوں کو افشا کرنے کا مرتکب پایا گیا تھا جو ’وکی لیکس، نے شائع کی تھیں۔ اس بنیاد پر سنہ 2013 میں انھیں غداری کا مرتکب قرار دیا گیا تھا اور انھیں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

وکی لیکس کے عنوان کے تحت سات لاکھ سے زائد دستاویزات اور وڈیوز افشا کر دی گئی تھیں جو کہ امریکی تاریخ میں خفیہ مواد کو منظر عام پر لانے کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔

Scroll To Top