یہ مقابلہ ٹی وی کیمروں کے سامنے ضرور ہونا چاہئے

آئی کیو کا تعلق غالباً ذہانت سے ہے۔ اور دانش کا علم سے۔ میرے خیال میں ایک بڑے لیڈر کے پاس دونوں چیزیں تو ہونی ہی چاہئیں، ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیتےں بھی لازمی ضرورت ہیں۔
اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ قائداعظم (رحمتہ اللہ الیہ)کی عہد ساز شخصیت میں تینوں چیزیں بدرجہ¿ اتم موجود تھیں۔ جب وہ مسلم لیگ کے قائد اوّل اور تحریک پاکستان کے پرچم بردار بن کر ابھی نہیں اُبھرے تھے تو ان کا شما ر بر صغیر کے عظیم وکلاءمیں ہوتا تھا۔ سروجنی نائیڈو نے اُس زمانے میں کہا تھا۔ ”جناح کی کامیابی کا راز یہ نہیں کہ وہ ایک بڑے قانون دان ہیں۔ میں اُن کی قانون دانی کے بارے میں زیادہ اچھی رائے نہیں رکھتی۔ لیکن ان سے بہتروکیل میںنے زندگی میں نہیں دیکھا۔ اور شاید دنیا میں ہو ہی نہ ۔ ان کے پاس دلائل کا انبار ہوتا ہے اور ہر دلیل اگلی دلیل کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔“
انگریزی میں وکیل کے لیے یوں تو Advocate کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے مگر سروجنی نائیڈوکے ذہن میں Pleaderکی اصطلاح تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے قائد نے ہمارا یعنی مسلمانوں کا مقدمہ ایک عظیم پلیڈر (Pleader) کی حیثیت سے لڑا ۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ مقدمہ جیتنے کے لئے ایک بڑا پلیڈر ہونا ضروری ہے۔ حامد خان اسی شعبے میں مار کھاگئے۔
مگر بات میں آئی کیو لیول ، دانش اور قائدانہ صلاحیتوں کی کر رہا تھا۔ اس ضمن میں میں نے بابائے قوم کا ذکر کیا۔ اُ ن کے پائے کی شخصیت ایک صدی میں شاید ایک ہی بار پیدا ہوا کرتی ہے۔ لیکن ان کے بعد …. اور کافی بعدمیں ذوالفقار علی بھٹو کا نام لوں گا، جن کا آئی کیو لیول بھی حیرت انگیز تھا، دانش بھی غیر معمولی تھی اور قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا ووٹ بنک بنایا۔ میں یہاں اُن کی خامیوں کا ذکر نہیں کروں گا۔
ہماری سیاست میں تیسری قابلِ ذکر شخصیت محترمہ بے نظیر بھٹو کی تھی۔ وہ اپنے باپ کے پائے کی دانش تو نہیں رکھتی تھیں اور نہ ہی ویسا آئی کیو لیول لیکن قائدانہ صلاحیتیں اُ ن میں بھی غیر معمولی تھیں۔
میںنے یہ موضوع دراصل اپنی موجودہ سیاسی قیادت کے آئی کیو لیول ، اس کی دانش اور اس کی قائدانہ صلاحیتوں کے موازنے کے لیے چھیڑا ہے۔
آپ جناب آصف علی زرداری ، میاں نواز شریف اور جناب عمران خان کو سامنے بٹھالیں۔اور ان کے آئی کیو لیول، ان کی دانش اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان لے لیں یا موازنہ کرلیں۔ آئی کیو لیول کا پتہ تو چند سوالوں میں لگ جائے گا۔ دانش کا بھی۔ قائدانہ صلاحیتوں کے لیے وقت درکار ہو گا۔ آپ سوچیں کہ اگر میاں نوازشریف ، میاں شریف مرحوم کے صاحبزادے نہ ہوتے اور 1977ءکو برسر اقتدار آ نے والی فوجی قیادت کے ساتھ رابطے میں نہ آتے تو کہاں ہوتے….؟اور اگر آصف علی زرداری محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر نہ ہوتے تو کہاں ہوتے ….؟
عمران خان کو عمران خان ان کی وراثت نے یا اُن کے کسی تعلق نے نہیں بنایا۔ وہ خود ہی اپنی تخلیق اور خود ہی اپنے خالق ہیں۔ انہیں جو کچھ ملا ہے اپنے خالق حقیقی سے ملا ہے۔ ان کے اندر بھی خامیوں کے انبار ہوں گے مگر ان کا تعلق حادثاتی طور پر بننے والے کسی شاہی خاندان سے نہیں۔ یہی امتیاز انہیں اپنے حریفوں پر سبقت عطا کرتا ہے۔

Scroll To Top