’صرف چار فیصد میڈیکل سٹور قواعد کے مطابق‘

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں صرف چار فیصد میڈیکل سٹور ایسے ہیں جو قواعد کی پیروی کر رہے ہیں۔

یہ رپورٹ پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق میں کراچی کے 1003 میڈیکل سٹوروں کا جائزہ لیا گیا جس سے ظاہر ہوا کہ صرف 4.1 فیصد سٹور قواعد کے مطابق قائم کر رہے تھے۔

تحقیق میں شامل سٹوروں میں سے صرف 12 فیصد میں کوالیفائڈ عملہ موجود تھا، جب کہ صرف چار فیصد ایسے تھے جہاں فارماسسٹ موجود تھا۔

 

اس کے علاوہ تقریباً نصف سٹور ایسے تھے جہاں ڈرگ سیل کا لائسنس چسپاں نہیں تھا، جب کہ ایک تہائی سٹوروں کا لائسنس زائد المیعاد ہو چکا تھا۔

ایک اور تشویش ناک بات یہ پائی گئی کہ 11 فیصد کے قریب سٹور بغیر ریفریجریٹر کے ویکسین فروخت کر رہے تھے جب کہ 1003 میں سے صرف 117 سٹوروں یعنی صرف 11.7 فیصد میں بجلی جانے کی صورت میں فریج چلانے کا متبادل نظام موجود تھا۔

اسی شمارے میں پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے چیف ایڈیٹر شوکت علی جاوید اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا یہ عالم ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کیا صورتِ حالت ہو گی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف سید شوکت علی متقی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کل ملا کر کراچی میں 4400 سے 4500 کے قریب میڈیکل سٹور موجود ہیں لیکن حفاظتی وجوہات کی بنا کر ان کی ٹیم نے تمام علاقوں کا احاطہ نہیں کیا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ جن سٹوروں میں ان کی ٹیم پہنچی، انھوں نے تعاون کرنے میں کسی پس و پیش کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سٹوروں کام کرنے والوں کو اس بات کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ قواعد کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کسی قسم کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں ہر میڈیکل سٹور میں، جنھیں فارمیسی کہا جاتا ہے، ہر وقت ایک کوالیفائیڈ فارماسسٹ کی موجودگی لازمی ہوا کرتی ہے۔ یہ فارمیسی نہ صرف ادویات کی فروخت کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں بلکہ فارماسسٹ پوری کمیونٹی کو طبی معلومات کی ترسیل کا فوری ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔

ان ملکوں میں اگر کسی کو معمولی نوعیت کا طبی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ ہسپتال جانے کی بجائے اپنے محلے میں واقع میڈیکل سٹور پر موجود فارماسسٹ سے مشورہ کر لیتا ہے، اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔

امریکہ میں مختلف پیشوں کی دیانت اور اخلاقیات کے بارے میں 2015 میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق فارماسسٹ سب سے قابلِ اعتماد پروفیشنل قرار پائے۔ آئی سی ایم ان لمیٹیڈ کے اس سروے کے مطابق سروے میں حصہ لینے والے 97 فیصد لوگوں نے فارماسسٹوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس فہرست میں جنرل پریکٹیشنر چوتھے، جب کہ ڈینٹسٹ، اساتذہ اور پولیس افسر علی الترتیب پانچویں، چھٹے اور ساتویں نمبر پر آئے۔

اس کے مقابلے پر کراچی جیسے شہر میں 96 فیصد میڈیکل سٹوروں پر فارماسسٹ سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ ہی سٹور کے مالکان کو اس کی کوئی پروا ہے۔

Scroll To Top