جناب صدر ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے فوج اور جمہوریت کا موضوع نہیں چھوا۔۔۔۔

ترکی کے صدر کو پہلے ہم اردگان کے نام سے جانتے تھے ` پھر اردوان کے نام سے جاننے لگے۔ گزشتہ شب کی ریسرچ نے بتایا کہ ان کا نام اردوغان ہے۔ طیب اُردوغان۔ آپ ”غ“ کو خاموش کرکے پڑھیں تو ” اُردوان“ بن جاتا ہے۔
دورِ جدید کی بڑی شخصیات میں مجھے اردوغان بڑے قدآور لیڈر لگتے رہے ہیں ۔ اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ انہوں نے اپنی شخصیت کے طلسم سے ترکی کو سیکولرزم اور لادینیت کے شکنجے سے نکالنے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ترکی کے دواہم ادارے ” فوج “ اور ” عدلیہ “ سیکولرزم مغربی تہذیب اور لادینیت کے گہوارے بنے ہوئے تھے۔
اردوغان کی شخصیت او ر جماعت نے اِس سوچ کے تمام قلعے تیرہ چودہ برس کے اندر تہہ وبالا کردیئے ہیں کہ اب ترکی اور اسلام کے درمیان ایسی خلیج حائل ہوچکی ہے جسے پاٹا نہیں جاسکتا۔
لیکن انسان بہرحال انسان ہوتا ہے۔ جب اردوغان نے طاقت کے تمام قلعے تسخیر کرلئے تو اُن کے اندر بھی اُسی ” بشری خواہش “ نے سرابھارا جو تاریخ کے بڑے اکابرین کے اندر جلد یا بدیر ضرور ابھرتی رہی ہے۔ اور وہ ” بشری خواہش “ ہے ” بلاشرکت غیر “ طاقت کا سرچشمہ بننا۔
اس بشری خواہش کی قربان گاہ پر پہلے قریبی ساتھی قربان ہوا کرتے ہیں۔ یہ فتح اللہ گولن جسے اردوغان دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور جس کی جماعت کو ایسے دہشت گردوں کا ٹولہ ثابت کرتے ہیں جنہیں مغربی سامراج کی حمایت حاصل ہے۔۔۔ یہ شخص کبھی اردوغان کا قریبی حلیف تھا۔۔۔ اس شخص کے ساتھ مل کر اردوغان نے سیکولر طاقت کے قلعے تسخیر کئے تھے۔۔۔
سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے ` یہ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ` ہمیں اپنے برادر ملک ترکی کے اندرونی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ خاص طور پر ویسی دلچسپی قطعاً نہیں ہونی چاہئے جس کے ” اثرات “ نے ہمارے وزیراعظم میاں نوازشریف کو مجبور کیا کہ وہ کہہ دیں ۔ ” ترکی کی ناکام فوجی بغاوت دوسروں کے لئے بھی سبق ہے ۔۔۔“
میاں صاحب کس سے مخاطب تھے ۔۔۔؟
انہوں نے یہ بات کیوں کی ۔۔۔؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں جناب طیب اردوغان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے میاں صاحب کی ” مہمان نوازی“ سے مرعوب اور مغلوب ہو کر پارلیمنٹ میں فوج اور جمہوریت کا موضوع نہیں چھیڑا۔۔۔ انہو ںنے ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے اپنے خطاب کا مرکزی موضوع اہل کشمیر پر ہونے والے مظالم کو بنایا۔۔۔
پاکستان آپ کا شکرگزار ہے جناب طیب اردوغان۔۔۔

Scroll To Top