تنازعہ کشمیر پر ترکی کی حمایت خوش آئند

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا دور ہ پاکستان اس لحاظ سے یقینا اہمیت کا حامل ہے کہ ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی سطحی پر ملکی خارجہ پالیسی خاطر خواہ اثر نہیں دکھا رہی دوست ملک کے سربراہ پاکستان تشریف لائے ہیں۔ توقعات کے عین مطابق طیب ادوغان کے دورے میں مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جن کی عملی افادیت بارے تاحال کچھ کہنا مشکل ہے۔ ترکی کے صدر نے اپنے دورے میں فتح اللہ گولن کی تنظیم کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے منسلک ادارے کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال قراردیا۔ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوغان کاکہنا تھا کہ دونوں ملک کئی علاقائی اور عالمی مسائل پرمتفقہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر نے فتح اللہ گولن کی تنظیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ شدت پسند تنظیم پاکستان کے سکیورٹی اور امن کے لیے خطرہ ہے لیکن پاکستان اس کے خلاف لڑائی میں ہمارے ساتھ ہے۔’انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دراصل اسی پس منظر میں اس تنظیم سے منسلک پاک ترک ایجوکیشن فانڈیشن کے افراد کو پاکستان نے 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کے لیے کہا۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ’ان تعلیمی اداروں کے طلبا کا خیال رکھا جائے گا۔ ہم پاکستان کی وزارت تعلیم اور معارف فانڈیشن کے درمیان تعاون اور مشترکہ کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ ”ہم اس وقت شیطانی نیٹ ورک اور قاتلوں کے گروہ کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اس تنظیم کو پاکستان میں چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہ ملے۔“
دوسری جانب طیب اردوغان نے رواں سال 15 جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی ناکام کوشش پر پاکستانی عوام کے ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ثابت ہوا پاکستان ترکی کا بہترین دوست ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ طیب اردوغان کا یہ کہنا اہم یہ کہ ‘ہم بھی پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں چھوڑیں گے“۔ بادی النظر میں یہ کھلا راز ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کا نقطہ نظر ایک ہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر ترکی پاکستان کی ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کو بھی تیار ہے۔وزیراعظم نوازشریف کی حکومت میں دونوں ملکوں درمیان سیاسی، معاشی اور عسکری تعاون میں بہتری آنا یقینا خوش آئند ہے امید ہوچلی کہ ترکی 2017 سے پہلے پاکستان کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کر لے گا۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان اس پر اتفاق رائے پایا گیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون میں بہتری آنی چاہیے یقینا پاکستان افغانستان اور ترکی سہ فریقی معاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں لہذا یہ کہنا کسی صورت غلط نہیں پاکستان ترکوں کو دوسرا گھر ہے۔ ترک صدر کا پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی اہمیت کا حامل رہا ۔ترک صدر رجب طیب اردوغان کاکہنا تھا کہ ‘میرا یقین ہے کہ ہمیں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون اور یکجہتی قائم رکھیں اور اسے مزید بڑھائیں۔’دہشت گردی تنظیموں کاذکر کرتے ہوئے ترک صدر کا موقف تھا کہ ”القاعدہ اور اس کی اتحادی داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں نے اسلام کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے اور اس سے صرف اور صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہمیں ان قاتلوں کے گروہوں کو جلداز جلد ختم کرنا ہوگا اسلامی دنیا اور دنیا بھر سے ، جن کے پاس مسلمانوں کا خون بہانے کے علاوہ کوئی ہنر نہیں۔“ترک صدر اپنے دورے کے دوران مسئلہ کشمیر کا ذکر کرنا بھی نہیں بھولے ان کا کہنا تھا کہ کہ کشمیر کا مسئلہ 70 سال سے حل طلب ہے۔ مزید یہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس مسئلے کے حل کی اہمیت اور فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔انھوں نے اپنی اس خواہش کا برملا اظہار کیا کہ پاکستان اور انڈیا کشمیر عوام کے مطالبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کا حل براہ راست مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔“
عالم اسلام ان دنوں جن مسائل کا سامنا کررہا اس میں مذہب کی بنیاد پر دہشت گردی بڑے عفریت کی شکل اختیار کرچکی ۔ دولت اسلامیہ جیسی دہشت گرد تنظمیں ایک طرف مسلمانوں کا کشت وخون کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی تو دوسری جانب مغربی ملکوں کو نشانہ بنا کر بھی وہاں رہنے والے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہیں۔ ترکی کا دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کے لیے سامنا یقینا خوش آئند ہے جس کے نتیجے میں مسلم معاشروں میں ان عناصر کے خلاف زمین موثر کاروائی کرنے میں مدد ملے گی جو حقیقی معنوں میں اسلام کا امن پسند تشخص خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ ترک صدر نے اپنے دورے پاکستان میں مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا تذکرہ بھی کھل کر کیا۔ اس میں شک نہیں کہ امن کے عالمی ٹھیکداروں کے لیے یقینا یہ شرمناک ہے کہ کئی ہفتوں سے مقبوضہ وادی میں بدترین کرفیو نافذ ہے جس کے نتیجے میں وادی میں زندگی عملا جمود کا شکار ہے۔پاکستان کے مخلص دوست ہونے کی حییثت سے ترکی کو تنازعہ کشمیر پر اوآئی سی کوبھی خواب غفلت سے جگانے میں اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

Scroll To Top