” ہم بے وقوف نہیں !“

یہ کالم ایک برس قبل شائع ہوا تھا۔ پانامالیکس کیس کے بعد میرا جی چاہتاہے کہ اسے ہرروز شائع کروں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔

اپنی آج کی بات میں بطور خاص وزیراعظم میاں نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری کے مطالعے کے لئے لکھ رہا ہوں۔ گزشتہ دنوں فیس بُک پر ایک پوسٹ میری نظروں سے گزری جس نے مجھے تاریخ اسلام کا وہ دور یاد دلا دیا جب اللہ اکبر کی صدائے حق بیت المقدس کی فضاﺅں میں پہنچی تھی۔ بیت المقدس پر اسلام کا جھنڈا گاڑنے کا اعزاز مصر کے فاتح حضرت عمر والعاص ؓ کو حاصل ہوا تھا۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عمر والعاص ؓ کے درمیان خط و کتابت کا ایک طویل سلسلہ چلا تھا جس کا ذکر میں آئندہ کبھی کروں گا لیکن آج جس خط کو میں نے موضوعِ قلم بنایا ہے وہ فتحِ مصر کے فوراً بعد کے ایام سے تعلق رکھتا ہے۔
حضرت عمر و العاص ؓ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو مالِ غنیمت کے ساتھ ایک مختصر تحریر بھیجی جس میں درج تھاکہ ” میرے سپاہی اس قدر دیانت دار ہیں کہ اگر کسی کو سونے کی اینٹ بھی ملی تو اس نے اسے ظاہر کیا اور بیت المال میں جمع کرایا۔“خط پڑھ کر حضرت عمر فاروق ؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ساتھ حضرت علی ؓ بیٹھے تھے۔ وہ پریشان ہو کر پوچھنے لگے۔” یا امیر المومنین کیا محاذِ جنگ سے کوئی بری خبر آئی ہے ؟ “
حضرت عمر فاروق ؓ نے جواب دیا۔ ” اے علی ؓ یہ خوشی کے آنسو ہیں ۔“
پھر انہوں نے حضرت علی ؓ کو خط کے مندرجات سے آگاہ کیا۔ ساری بات سن کر حضرت علی ؓ نے ایک ایسا جملہ کہا جو ہر دور میں ہر حکمران کے لئے مشعلِ راہ ہونا چاہئے۔
” امیر المومنین ! ” حضرت علی ؓ بولے۔“ یہ سپاہیوں کی دیانت کا کمال نہیں بلکہ آپ کی دیانت کا کرشمہ ہے۔ اگر آپ ؓ دیانت دار نہ ہوتے تو سپاہیوں میں کبھی یہ وصف پیدا نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔“
کاش کہ کوئی صورت ایسی ہو کہ ہمارے حکمرانوں کی نظروں سے یہ تحریر گزر سکے۔!
لیکن پھر جانتاہوں کہ اگر یہ تحریر ان کی نظروں سے گزر بھی جائے تو وہ دل میں یہی کہیں گے ۔ ” ہم بے وقوف نہیں !“

Scroll To Top