خارجہ پالیسی میں غیر زمہ دارنہ طرزعمل کب تک

بلاشبہ بھارت کے پاکستان بارے جارحانے عزائم میں شدت پیدا ہورہی ہے۔بعض مبصرین کا یہاں تک دعوے ہے کہ مودی سرکاری درپردہ کسی مہم جوئی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔حال ہی میں ایک ہی کاروائی میں پاک فوج کے سات جوانوں کی شہادت بھی اس امر کی گواہی دے رہا کہ بھارت میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ضرور پاکستان کے خلاف کرنے جارہا ۔ اس پس منظر میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے لندن میں برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے سے ملاقات میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ عالمی برادری بلخصوص دوست ممالک کو خطے میں انڈیا کی انتہا پسندی پر توجہ اور اس کا جواب دینا چاہیے۔لندن میں 10 ڈاننگ سٹریٹ میں مشیر سکیورٹی امور سر مارک لائل گرانٹ سے ملاقات کے دوران وزیراعظم ٹریزا مے بھی موجود رہیں۔بتایا گیا کہ وزیر داخلہ نے ملاقات میں کہا کہ بھارت کا حاکمانہ موقف اور اس کا جارحانہ انداز خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ جارحیت کے کسی بھی قسم کے ہتکھنڈے سے پاکستان کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا مذید یہ پاکستان اپنے فوجیوں کی بلااشتعال اور ڈھٹائی سے شہادت کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے یہ بھی کہا کہ مہذب دنیا کو انڈیا کے پاکستان کے خلاف منصوبوں کا تدارک کرنے کے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔“ بلاشبہ اقوام عالم کو دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کامیابیوں کا برملا اعتراف کرنا ہوگا تاکہ اس عفریت کا خاتمہ کیا جاسکے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سکون کے لیے ایک خطرہ ہے۔ دنیا کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی عوام اور اس کے سکیورٹی ادارے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یقینا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں تو روز روشن کی طرح آشکار ہیں مگر پاکستانی عوام بجا طور پر سمجھتی ہے کہ کہ بین الاقوامی سطح پر اس ضمن میں ان سے امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور عالمی سطح پر امن کے لیے اس کے کردار کو تسلیم کرنا لازم ہے۔ یہ تاثر بھی ختم کرنا ہوگا کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کی مداخلت میں پاکستان ملوث ہے اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔برطانوی وزیراعظم کا آئندہ برس پاکستان کا دورہ متوقع ہے وفاقی وزیر داخلہ کے دورے میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعاون اور رابطوں کے نئے راستے کھلیں گے۔ دراصل برطانیہ کو یہ باور کروانا چاہے کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کا بنیادی سبب تنازعہ کشمیر ہے جسے تقسیم برصغیر پاک وہند کا نامکمل ایجنڈا بھی کہا جاتا ہے۔ سیاسی اور اخلاقی طور پر بھارت کی بجا طور پر زمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر کشمیر میں جاری ظلم وستم کا بازار بند کروانے میں ٹھوس کردار ادا کرے۔ دو ایٹمی قوت کی حامل ہمسایہ ریاستوں میں مسلسل پائی جانے والی کشیدگی علاقائی ہی نہیں عالمی امن کے لیے بھی یقینی خطرہ ہے۔ اقوام عالم کو محض اس خود ساختہ مفروضہ کی بنیاد پر پاک بھارت تعلقات میں پائی جانے والی کشیدیگی سے صرف نظر نہیںکرنا کہ ایٹمی تصادم سے کوئی ایک فریق اس لیے باز رہے گا کہ ایسی جنگ دونوں ریاستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے۔ دراصل عالمی برداری کو جان لینا چاہے کہ انتہاپسند چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ۔ وہ عملا عدم برداشت کی خصلت کا نمونہ ہے۔ نریندری مودی گجرات کے وزیراعلی کے طور پر معصوم اور نہتے مسلمانوں کا جس طرح قتل عام کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کا یہی گھناونا کردار تھا جس کے سبب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اس کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔بھارتیہ جنتا پارٹی نفرت اور تعصب کی سیاست چھپ کر نہیں اعلانیہ کررہی۔ اس کے کٹر حامیوںن نے بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں اور سکھوں کے خلاف بھی مہم شروع کررکھی ہے۔ بھارتی میڈیا کا غالب حصہ بھی ہندو انتہاپسندی کو فروغ دینے میںپیش پیش ہے۔ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے چند گھنٹوں کے اندار ہی پاکستان پر الزام عائد کردیا جانا محض اتفاق نہیں۔ ایسے میں اگر برطانیہ سمیت زمہ دار مغربی ممالک الگ تھلگ رہیں گے تو یہ یقینا تباہ کن ہوسکتا ہے۔ وطن عزیز میں بھی درپیش صورت حال کو سنجیدہ لینا ہوگا ۔ ارباب اختیار کے محض بیانات بھارت کی اس جارحاجہ سفارتی کاری کا کسی طور پر جواب نہیں جو گذشتہ کئی ماہ سے جاری وساری ہے ۔ حال ہی میں اسرائیلی صدر نے بھارت کا دورہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف دونوں ملکوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل بھارت کو سلامتی کونسل میں مسقل نشست دلوانے کے لیے کوشاں رہے گا۔ اس کے برعکس ہمارا حال ہی ہے کہ عالمی برادری تو ایک طرف ہمسایہ ملکوں سے مثالی تعلقات قائم کرنے میں بھی ہم ناکام ہیں۔ ایران اور افغانستان سے تعلقات میں بھی گرم جوشی مفقود ہے۔ حیرت انگیز طور پر خارجہ محاذ کو حکمران مسلسل نظر انداز کرنے کے مرتکب ہورہے ۔ ساڈھے تین سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وزیر خارجہ کا تقرر نہ ہونا ایسی سنگین کوتاہی ہے جس کا ازالہ جلد ہونا ممکن نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا برطانیہ میں پاک بھارت تعلقات پر اظہار خیال اپنی جگہ مگر اس ضمن میں مذید حکومت کی جانب سے مذید اقدمات اٹھائے بغیر بات نہیں بنے والی۔

Scroll To Top