مجھے یقین ہے کہ جنر ل صاحب قوم پر یہ احسان ضرور کریں گے ۔۔۔

پوری قوم کو مل کرجسٹس سعید الزمان صدیقی کی صحت کی بحالی کی دعائیں کرنی چاہئیں۔ اگر وہ چند ماہ سندھ کی گورنری کے مزے لوٹ لیں تو کسی کا کیا بگڑے گا۔؟ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی عطا فرمائے لیکن افواہیں یہ بھی گردش کررہی ہیں کہ ان پر استعفیٰ دینے کے لئے دباﺅ ڈالا جارہاہے ۔باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کو جسٹس صاحب کی صحت کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔ اور وہ صرف یہ جانتے تھے کہ موصوف ریٹائرڈ جسٹس ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ میاں صاحب کو ریٹائرڈ جسٹس اتنے ہی پسند ہیں جتنے سری پائے اور دہی بھلے وغیرہ۔ وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہر ریٹائرڈ جسٹس پہلے حاضر سروس ہوا کرتا ہے۔ اور جب وہ حاضر سروس ہوتا ہے تو بڑا کار آمد ہوتا ہے۔ میاں صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ احسان کا بدلہ ضرور دیتے ہیں۔ احسان کہہ لیں یا خدمات ` ایک ہی بات ہے۔
آج میں جب یہ خبر پڑھ رہا تھا کہ جسٹس (ر)سعید الزمان صدیقی آئی سی یو سے اپنے کمرے میں منتقل کردیئے گئے ہیں تو مجھے اچانک ہی ایک وحشت ناک خیال آیا اور میں لرز اٹھا۔
یہ خیال مجھے یہ یاد کرکے آیا کہ جس طرح گورنر کی تعیناتی کا اختیارمیاں صاحب کے پاس ہے اسی طرح آرمی چیف کا تقرر بھی وہی کرسکتے ہیں خدانخواستہ انہوں نے آرمی چیف بنانے کے لئے بھی جسٹس (ر)سعید الزمان جیسا کوئی جنرل تلاش کرلیا تو اِس بدنصیب قوم کا کیا بنے گا۔؟ کون نہیں جانتا کہ پاکستان بھارتی حملوں کی زد میں آیا ہوا ہے۔۔۔؟
اس وحشت ناک خیال سے جان میں نے یہ سوچ کر چھڑائی ہے کہ آرمی چیف صرف حاضر سروس جنرل ہی بن سکتا ہے ` میاں صاحب یہ عہدہ اب جنرل ضیاءالدین بٹ کو نہیں دے سکتے۔
زیادہ اطمینان مجھے یہ سوچ کر ہوا ہے کہ جنرل راحیل شریف کم ازکم یہ احسان قوم پر ضرور کریں گے کہ میاں صاحب کو ایسے آرمی چیف کا تقرر کرنے نہ دیں جو ہر صبح فون کرکے اُن سے پوچھے۔۔۔ ”میرے لائق کیا حکم ہے میاں صاحب ؟“

Scroll To Top