کچھ نہیں بدلا۔۔۔۔

میرا یہ کالم 17-02-2010 کو شائع ہوا تھا۔ مگر آج کے حالات کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ میں نے آج ہی لکھا ہے اور آج کے پاکستان پر ہی لکھا ہے۔ ہم ایک ہی جگہ پر جامد ہو کر کیوں رہ گئے ہیں ؟ پڑھئے اور اِس سوال کا جواب سوچئے۔۔۔

قوم کو اس شرمناک کھیل ہے
نجات کب ملے گی ؟

یہ درست ہے کہ پاکستان پر ” گڈگورنس“ قائم کرنے کے لئے آسمان پر سے فرشتے نہیں اتریں گے۔ یہ بھی درست ہے کہ نہ تو موجودہ حکمران اتحاد میں تمام کے تمام لوگ ” رقص ابلیس“ کے شیدائی ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو ان کا ” متبادل“ سمجھنے والوں میں اچھے لوگوں کا کوئی بہت بڑا قحط ہے۔ درست یہ بھی ہے کہ وہ سب بھی سارے کے سارے اور پورے کے پورے ” شیاطین خورد“ نہیں تھے جو بندوق کے زور پر اسلام آباد کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ لیکن مملکت خداد اد پاکستان کے حالات تیزی کے ساتھ جس سمت میں جارہے ہیں اس سمت میں ` وہ چٹان اب نظروں سے زیادہ دور نہیں رہی جس سے جس کی بھی اور جب بھی ٹکر ہوئی ہے ایک بڑا زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ اور کئی اعضا اور کئی دھڑ ایک دوسرے سے الگ ہو کر فضا میں اچھلے اور زمین پر گرے ہیں۔
پی پی پی کے اکابرین اکثر کہا کرتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ قربانیاں دینے کے دعوے اب ان کے مخالفین بھی کررہے ہیں۔ مگر ” قربان گاہ“ پر اب تک عوام ہی گئے ہیں۔ قربانی اب تک ہمیشہ ملک و قوم کے مفادات کی دی گئی ہے۔
آج بھی ” قربان گاہ“ پر عوام کو کھڑا کردیا گیا ہے۔ آج بھی قربانی ملک و قوم کے مفادات کی دی جارہی ہے۔
اس قوم کو اس بات سے اب کوئی دلچسپی نہیں کہ کس نظام کو کتنا تقدس اور کس قدر فضلیت حاصل ہے اور کس نظام کوبچانے یا روکنے کے لئے کیا کچھ قربان کرنا پڑے گا۔ اب قوم کو ” نجات“ چاہئے۔ اس ” ظالمانہ بے حسی “ سے نجات جس کا مظاہرہ کرتے وقت اس کی رہبری کرنے کے دعویدار ذرا بھی ندامت یا شرمندگی محسوس نہیں کررہے۔
قوم کو اس شرمناک کھیل سے نجات کب ملے گی؟

Scroll To Top