روس کا فوجی دستہ مشترکہ مشقوں کے لیے پاکستان میں

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق روسی بری فوج کا ایک دستہ پہلی مرتبہ مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے اور یہ مشقیں دو ہفتے تک جاری رہیں گی۔

جمعے کے روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور روس کی بّری افواج کے درمیان ہونے والی یہ مشقیں دو ہفتے تک جاری رہیں گی۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق ’فرینڈشپ 2016 ‘ نامی فوجی مشقوں کی افتتاحی تقریب 24 ستمبر کو پاکستان آرمی کےگلگت بلتستان میں ہمالیہ کی بلندیوں میں فوجی تربیتی سکول رتو میں ہوگی۔

پاکستان اور روس کی بری افواج کے درمیان ہونے والی ان مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید بڑھانا ہے۔

ان مشترکہ مشقوں میں دونوں ممالک کی جانب سے تقریباً دو سو فوجی حصہ لیں گے۔

تاس کے مطابق مشترکہ مشقوں میں حصہ لینے کے لیے کوہ قاف کے پہاڑوں پر تعینات جنوبی کمان کی’مونٹین موبائل بریگیڈ‘ اور ہیڈ کوارٹر سٹاف سے تعلق رکھنے والے 70 فوجی پاکستان پہنچے ہیں۔

ان مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد پہاڑی علاقوں میں جنگ کے تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔ فوجی مشقوں میں پہاڑیوں علاقوں میں مقیم غیرقانونی مسلح گروہوں کو ختم کرنے کی مشقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں ایک فوجی کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد انڈین ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں زور پکڑنا شروع ہوگئی تھیں کہ روس نے پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی مشقوں کو منسوخ کر دیا ہے۔

تاہم بعد میں انڈین ذرائع ابلاغ کی یہ خبریں غلط ثابت ہوئیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گذشتہ برس اگست میں پاکستان اور روس کے درمیان ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر کی خریداری کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

ان مشقوں میں روس اور پاکستان کے تقریباً دو سو فوجی اہلکار حصہ لیں گے

معاہدے کے تحت پاکستان روس سے چار ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز خریدے گا۔

جون 2015 میں ہی پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے روس کا دورہ کیا تھا۔

اپنے دورے کے دوران آرمی چیف نے دفاعی نمائش کا دورہ بھی کیا تھا۔

افغانستان پر روسی قبضے اور روس مخالف افغان مجاہدین کو پاکستانی امداد کے بعد روس نے پاکستان پر ہر طرح کے فوجی سازوسامان کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ تاہم بعد میں روس نے پاکستان پر سے اسلحے کی فروخت پر عائد کردہ پابندی بھی اٹھا لی تھی۔

دو سال قبل نومبر میں روسی وزیر دفاع کا سرگئی شوگو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

سرگئی شوگو کے اس دورے کے دوران پاکستان اور روس نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

Scroll To Top