سات فوجیوں کی شہادت واضح پیغام

ایک ایسے موقعہ پر جب قوم گودار پورٹ سے پہلے تجارتی قافلے کی روانگی پر خوشی منا رہی تھی بھارت کی جانب فائرنگ کرکے سات پاکستانی فوجیوں کو شہید کردیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے اس واقعہ کی تفصیلات یوں بتائی ہے کہ گزشتہ شب بھارتی فورسز نے بھمبر سیکٹر میں فائر بندی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سات پاکستانی فوجی شہید ہو گئے۔
حکام کے مطابق بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کا موثر طریقے سے جواب دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بھارتی توپوں کو خاموش کرادیا گیا۔ تادم تحریر بھارت کی جانب سے اس پاکستانی دعوے کے جواب میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
رواں سال ستمبر کے بعد سے لے کر اب تک دونوں ممالک کے مابین سرحدی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ۔ ستمبر میں ہی نامعلوم مسلح افراد نے بھارتی چھاونی پر حملہ کرتے ہوئے کم از کم انیس بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ مزکورہ واقعہ کے فورا بعد بھارت نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی مگر پاکستان نے دوٹوک انداز میں اس الزام کو مسترد کردیاتھا۔ ماہ ستمبر کے بعد سے لے کر اب تک بھارت کی طرف سے فائر بندی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیاں ہو چکیں جن کے نتیجے میں نہ صرف عام شہری بلکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی شہید ہوئے ۔ مگر گذشتہ واقعات کے برعکس ایک ہی کاروائی میں سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت یقینا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔پاکستان نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔اسلام آباد میں تعینات انڈین ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈین ہائی کمشنر گوتم بمبا والا کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ۔
وزیراعظم نوازشریف نے بھی پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت لائن آف کنڑول پر مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوے ہے تاکہ کشمیر میں جاری تحریک سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ “
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پاکستان پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں اور بلا اشتعال فائرنگ کرنے کا الزام عائد کرتا چلا آرہا ۔بھارت کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا جاتا ستمبر کے بعد سے سرحد پر جاری گولا باری کے نتیجے میں اس کے کے کم از کم دس فوجی مارے جا چکے ہیں۔ بادی النظر میں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی کا ماحول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اندرون خانہ مودی سرکار کو ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا تو دوسری جانب انتہاپسند ہندو بھی داخلہ اور خارجہ محاذ پر شدت پسند پالیسوں پر عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔
سرحدوں کے ساتھ بھارت پاکستان کے ساتھ سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت نے ایک پاکستانی سفارت کار کو جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کر دیا جس کے بعد پاکستان نے بھی ایک بھارتی سفارت کار کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ ۔ حال ہی میں پاکستان میں تعینات بھارت کے متعدد سفارت کار مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی را اور بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے رکن ثابت ہونے اور پاکستان مخالف کاروائیوں میں ملوث پائے جانے پر ملک کو چھوڑ دینے کے احکامات جاری کیے گئے۔
یقینا افسوسناک ہے کہ عالمی برداری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم وبربریت پر خاموش تماشائی کا کردار نبھا رہی۔ دانستہ طور پر مودی کے انسانیت سوز اقدامات سے صرف نظر کرکے اہل کشمیر کویہ پیغام دیا جارہا کہ ”مہذب دنیا “ کو ان کی کسی قسم کی کوئی پرواہ نہیں۔ پاک بھارت تاریخ سے شناسا ہر باشعور شخص آگاہ ہے کہ جب تک مسلہ کشمیر وادی کے لوگوں کی مرضی ومنشاءسے حل نہیں ہوجاتا دونوں ملکوں کے تعلقات کسی طور پر خوشگوار ہونے والے نہیں۔ اب تو یہ بھی کوئی راز نہیں رہا کہ بھارت کسی طور پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کا عمل نہیں شروع ہونے والا۔ چانکیہ سیاست کے پیروکار بھارت پالیسی ساز پاکستان سے دہشت گردی کے موضوع پر بات کرکے من ماننے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی مگر اب مستقبل بارے حتمی طور پر کوئی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں وقفے وقفے سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جب کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں تقریبا نوے کشمیری شہید اور بارہ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر میں جس طرح شدت آئی اسے اب تک بھارت کنڑول نہیں کرسکا۔ دراصل بھارت پاکستان کے ساتھ چھیڑ خانی کرکے اقوام عالم کو یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ وادی میں بے چینی واضطراب کی وجہ سرحد پار سے ہونے والی مداخلت ہے۔
اس تمام پس منظر میں حکومت کو اپنی سفارتی مہم میں تیزی لانے کی ضرورت ہے، فوری طور پر وزیر خارجہ تعینات کرتے ہوئے علاقائی اور عالمی سطح پر یہ باور کروانا ہوگا کہ مودی سرکاری کا پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کا ارتکاب کرنا خارج ازمکان نہیں ۔ سات پاکستانی فوجیوں کو شہید کرکے بھارت نے یقینا ایک پیغام دیا ہے جسے ارباب اختیار کو پوری سنجیدیگی اور گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top