پاکستان کو صرف اور صرف ایسا نظام بچا سکتا ہے جو قرآنی تعلیمات سے متصادم نہ ہو 16-02-2010

مغرب کے جمہوری نظام اور اسلام کے آفاقی نظام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مغربی نظام کی بنیاد یہ تصور ہے کہ حاکمیت عوام کی ہے۔ اور اسلامی نظام کی بنیاد یہ نظریہ ہے کہ حاکمیت خدا کی ہے۔
مغربی نظام کے علمبردار یہ کہتے ہیں کہ عوام کی حاکمیت تو انتخابی عمل کے ذریعے نمائندگی کی بنیاد پر طے کی جاسکتی رہے ` خدا کی حاکمیت کے نفاذ کا کوئی نہ تو لائحہ عمل موجود ہے 1 اور نہ ہی طریقہ کار۔
میرے خیال میں اس ” گمراہ کن“ استد لال کی پرزور تردید اس لئے ناگزیر ہے کہ پاکستان بہرحال خدا کی حاکمیت کے تصور پر حاصل اور قائم کیا گیا تھا۔
جو لوگ خدا کی حاکمیت کو محض ایک خیالی تصور قرار دیتے ہیں کیوں کہ خدا حقیقت میں زمین پر موجود ہی نہیں ` وہ ایسا اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اسلام کی بنیادی اساس سے ہی نا آشنا ہیں۔
نہ صرف یہ کہ خدا زمین پر موجود ہے مگر اس کا وجود ہر اس چیز میں پایا جاتا ہے جو اس نے تخلیق کی ہے ` اور چونکہ عالم وجود میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو خدائے تخلیق نہیں کی اس لئے خدا ہر مقام پر ہر لمحے اور ہر صورت میں موجود ہے۔ زمین پر خدا کا وجود اس کے کلام یعنی قرآن حکیم کی صورت میں دیکھا سمجھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ قرآن حکیم کلام الٰہی ہے جو حضور پاک کے ذریعے بنی نوع انسان کی ہدایت رہنمائی اور رہبری کے لئے اترا۔
جب ہم خدا کی حاکمیت کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد قرآن حکیم کی حاکمیت ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن حکیم کی حاکمیت کو نہیں مانتا تو درحقیقت وہ خدا اور اس کے رسول کا منکر ہے۔اسے دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جانا چاہئے۔
پاکستان کے آئین کے دیباچے میں قرار داد مقاصد کے ذریعے واضح کردیا گیا ہے کہ یہاں کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو قرآنی احکامات اور قوانین سے متصادم ہو یا مطابقت نہ رکھے۔
مجھے ان لوگوں سے ہمدردی ہے جو ” سیکولرزم“ کے نام پر خدا کی حاکمیت اور قرآن کی بالادستی تصور کو معاملات مملکت سے باہر رکھنے کی باتیں کرتے ہیں۔ اگر وہ خدا کے باغی اور خدا کی حاکمیت کے تصور پر قائم ہونے والے پاکستان کے مجرم نہیں تو پھر اور کیا ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم مغرب کی ذہنی اور فکری غلامی کی زنجیریں توڑ کر اس اساس کے ساتھ رشتہ جوڑ لیں جس پر ” وفاق پاکستان“ کی عمارت کھڑی کی گئی تھی۔
پاکستان کو صرف اور صرف ایسا نظام بچا سکتا ہے جو قرآنی تعلیمات سے متصادم نہ ہو

Scroll To Top