مسلم لیگ (ن)ایک ایسا ہاتھی ہے جوگرا تو فضا میں تحلیل ہوجائے گا  اسی لئے جماعتی سیاست کے لئے پی پی پی کی بقاءضروری ہے

جہانگیر بدر چل بسے۔ ان کی وفات پر رسمی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ شمال سے جنوب تک گہرے رنج و غم کے اظہار کے ساتھ یہ کہا جارہا ہے کہ ان کے انتقال سے جو خلاءپیدا ہوا ہے وہ پرُ نہیں ہوسکے گا۔ قوم اس قسم کے روایتی بیانات کی عادی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اب پیپلزپارٹی میں زیادہ ایسے نام باقی نہیں رہے جن کی وجہ سے یا جن کے دور میں یہ جماعت چاروں صوبوں کی زنجیر کہلاتی تھی۔ جن لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ان میں رضا ربانی اور چوہدری اعتزاز احسن قابل ذکر ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ دونوں کی فکری جڑیں ابھی تک گزشتہ صدی کی اس سوچ میں ہیں جس نے ” سوشلزم آوے ای آوے“ کے نعرے کو جنم دیا تھا۔ وہ سوشلزم اگرچہ میرے لئے اجنبی تھا جس میں سے یار لوگوں نے خدا کو نکال کر ایک کونے میں رکھ دیا تھا مگر میں اپنی نوجوانی میں اس بات پر ایمان رکھتا تھا کہ اسلام افراد کے اشتراک سے جنم لینے والی معاشی معاشرتی اور اخلاقی قدروں کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے1972ءمیں جو ہفت روزہ جاری کیا اس کا نام ” اشتراک “ تھا۔ اس کا بنیادی نعرہ ہی یہ تھاکہ جس معاشرے میں افراد کو مساوات کی بنیادوں پر انصاف نہ مل سکے اسے خدا کا معاشرہ یا اسلامی معاشرہ کہلانے کا کوئی حق نہیں۔
بہرحال یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ میں ذکر یہاں پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی فکری وابستگی کی کرنا چاہتا ہوں مگر اس اختلافی نوٹ کے ساتھ کہ میری سیاسی سوچ میں حاکمیت معاشرے میں ہمیشہ خدا کی رہی ہے۔ افراد افراد کو انصاف کیسے دے سکتے ہیں؟
جہانگیر بدر اُس زمانے سے پی پی پی کے ساتھ رہے۔ اورمیں نے اُسی زمانے میں پی پی پی کے عملی کردار کو دیکھ کر ” اشتراک “ کے پلیٹ فارم سے سوشلزم کے نام پر ہونے والی فسطائیت کے خلاف بغاوت کی ` جس کے نتیجے میں مجھے صحافت اور سیاست کو خیر باد کہنا پڑا۔
جب میری واپسی ہوئی تو دنیا بدل چکی تھی۔ اور اس دنیا میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا ساتھ دینا میرے لئے ناگزیر ہوچکا تھا کیوں کہ مقابلے پر ” بادشاہ“ کے دربار میں جنم لینے والی ” مسلم لیگ “ تھی جسے اُس کے تیسرے یا چوتھے جنم میں حکمران سوچ کا پرچم پکڑا دیا گیا تھا۔ مزید ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اس نئی مسلم لیگ کو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرکے اس کا منیجنگ ڈائریکٹر میاں نوازشریف کو بنا دیا گیا۔ میں یہاں ساری بات اختصار سے لکھ رہاہوں ۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ مسلم لیگ کو Corporatiseکرنے کا عمل میری نظروں کے سامنے نہ ہوا ہوتا تو میں پی پی پی کی واپسی کو ملک کی واحد جمہوری امید نہ سمجھتا۔ اور پھر پی پی پی کے ساتھ دوسری مرتبہ میری وابستگی نہ ہوتی۔
میں نے اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میڈاس کے پلیٹ فارم سے 1990,1988ءاور1993 ءکے انتخابات میں پی پی پی کی اشتہاری مہم چلائی ۔پی پی پی کے ساتھ میرا یہ تعلق 1995ءتک رہا جس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچ کر اس پارٹی سے دور ہوتا چلا گیا کہ اسے ” زرداری ازم“ کی یلغار سے بچانا محترمہ کے بس کی بات نہیں تھی۔
اُسی زمانے میں ہی جہانگیر بدر سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ اور وہ مجھے انگریزی ناول نگار ووڈہاﺅس یا پھر اپنے ڈاکٹر شفیق الرحمان کے ایک دلچسپ کردار لگے۔ ظاہر ہے کہ وہ بڑی اعلیٰ دماغی صلاحیتوں کے ملک نہیں تھے لیکن اُن کے دل پر ” پی پی پی “ کی مہرتاحیات لگی رہی۔ یہ مہر اب مجھے رضا ربانی اورچوہدری اعتزاز احسن جیسے لوگوں کے دلوں پر بھی لگی نظرآتی ہے۔ رضا ربانی کے ساتھ مجھے2002ءمیں کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ ہر رات ڈنر کے بعد میرے دفتر آیا کرتے تھے اور ہم مل کر 2002ءکی انتخابی مہم کے لئے اشتہارات سوچا اور بنایا کرتے تھے۔ تب پی پی پی کے ساتھ میرا ذہنی تعلق صرف محترمہ کی ذات کے حوالے سے تھا وہ مجھ پر بے حد اعتماد کرتی تھیں۔ محترمہ کے متعلق مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ ” کرپشن کے عنوان کے تحت جنم لینے والی تمام کہانیوں “ کے باوجود وہ ایک بڑی لیڈر تھیں۔ زیڈ اے بھٹو کے بارے میں ڈاکٹر کسنگر نے کہاتھا۔ ” پاکستان اُس کے خوابوں کے لئے ایک چھوٹا ملک تھا۔“ محترمہ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ” اگر وہ مسز زرداری نہ بنتیں تو اپنے والد سے بھی زیادہ نام کماتیں۔“
بہرحال قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ میں نے جہانگیر بدر کی وفات کے حوالے سے یہاں یہ موضوع ایک چونکا دینے والی بات کہنے کے لئے چھیڑا ہے۔
آنے والے ادوار میں میں مسلم لیگ (ن)کا کوئی وجود نہیں دیکھ رہا۔ یہ ایک کارپوریٹڈ جماعت ہے۔ جیسے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہوتی ہے۔ اس کے نام کے ساتھ ” نواز “ کا نام لٹکا ہوا ہے۔ جب یہ نام گرے گا تو کمپنی بھی اسی طرح بکھر جائے گی جس طرح دوسری مسلم لیگیں بکھرتی رہی ہیں۔
اگر ملک میں جماعتی سیاست کوچلنا ہے تو پی پی پی کو ایک اور جنم لیناہوگا۔۔۔ عمران خان کی پی ٹی آئی جس تیزی سے ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بنی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ زرداری صاحب پی پی پی کے تابوت میں ٹھونکے جانے والے کیل بن چکے ہیں۔ لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ۔ پی پی پی ایک ووٹ بنک کا نام ہے۔ اِس ووٹ بنک میں صرف زندگی کی لہر دوڑانے کی ضرورت ہے۔ اور زندگی کی لہر ادھ موے جسم میں بھی دوڑ سکتی ہے۔
البتہ مسلم لیگ (ن)یک ایسا ہاتھی ہے جو جب گرے گا تو آنافاناً اس کے اسی طرح حصے بخرے ہوجائیں گے جس طرح شپ بریکنگ میں جہاز کے ہوتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top