مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو کے باوجود حریت رہنماؤں کی اپیل پر مظاہرے

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو کے باوجود نماز جمعہ کے بعد شدید مظاہرے کیے گئے جب کہ اس دوران قابض فوج نے ایک بار پھرپیلٹ گن کا استعمال کیا جس سے 30 کشمیری زخمی ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق نماز جمعہ کے بعد سری نگر کے کئی علاقوں میں حریت رہنماؤں کی اپیل پر آزادی مارچ کیا گیا لیکن اس دوران قابض بھارتی فوج نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جس سے 30 کشمیری زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے وادی میں کشیدگی بڑھ گئی۔

بی بی سی کےمطابق وادی میں 77 روز سے جاری کرفیو کے باعث 11 ہفتوں سے کشمیر کی تمام بڑی مساجد اور دیگر درگاہوں پر جمعہ سمیت عید کی نمازیں بھی نہیں ہوسکی ہیں۔ بھارتی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں 80 سے زائد کشمیری شہید جب کہ سیکڑوں زخمی اور پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد اپنی بینائی کھوچکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سری نگر میں 3 ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جب کہ روزانہ تقریباً 50 افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب بی بی سی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی ہائی کورٹ نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کے خلاف مفاد عامے کے تحت دائر کی گئی ایک درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ پیلٹ گنوں کے استعمال کے بغیر سکیورٹی فورسز کے لیے مظاہروں پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔

Scroll To Top