مولانا فضل الرحمان سی پیک کے اصل ہیرو ہیں!

مجھے کچھ ایسا لگا کہ میاں نواز شریف نے سی پیک کے منصوبے کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے تاریخی کام میں دلچسپی ہی اس لئے لی تھی کہ اس کا افتتاح مولانا فضل الرحمان کے ”مبارک“ ہاتھوں سے ہو ۔ حالات کچھ اس قدر ”بدمزہ“ ہو چکے ہیں کہ اس خطے کی تقدیر کو تبدیل کر دینے والے اس عظیم الشان منصوبے کے اِس تاریخی مرحلے کو زیادہ یادگار بنانے کے لئے میاں صاحب اپنے دوست مودی کو دعوت نہ دے سکے۔ اِس کا انہیں دِلی افسوس ہو رہا ہوگا۔ تقریباً ایک برس قبل مودی صاحب خصوصی طورپر بڑے ہی خصوصی انداز میں میاں صاحب کی ایک بڑی ہی نجی خوشی میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے۔
سی پیک کے منصوبے کی بدولت چین سے آنے والے ”تجارتی قافلے“ کا مال، سمندر کے راستے اپنی منزلوں کی طرف لے جانے والے جہاز کی روانگی، ایک لحاظ سے ”میاں دور“ کے لئے ایک سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر میاں صاحب کو بے حد خوش نظر آنا چاہئے تھا۔ مگر مولانا فضل الرحمان کو اپنے ساتھ لے جا کر بھی وہ اپنے چہرے سے کھینچاﺅ اور بدمزگی کے تاثرات دور نہ کر سکے۔ شاید اُنہیں افسوس اِس بات کا تھا کہ اُن کے پہلو میں مودی صاحب کی بجائے جنرل راحیل شریف ہیں۔
بہرحال پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم لمحہ گزر گیا۔ میں ایک عرصے سے ”گریٹ گیم“ کا ذکر سنتا چلا آر ہا ہوں۔ شاید گریٹ گیم کا آغاز ایک صدی قبل ہواتھا۔ تب تک چین کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ اِس کے بنیادی کردار روس اور برطانیہ تھے۔ جس خطے کو آج ہم پاکستان کہتے ہیں اِس کے ساتھ جو سمندر لگتا ہے اُس کی گہرائی اور اُس کے گرم پانیوں کا ذکر بہت ساری کتابوں میں کیا گیا ہے۔ اِن گرم پانیوں کے کنٹرول کے لئے افغان جہاد ہوا۔ افغانستان پر امریکہ کا حملہ ہوا۔ بلوچستان میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ مل کر علیحدگی کی تحریکیں چلوائیں۔ بہت کچھ ہوا۔ حتیٰ کہ 12نومبر کی شام کوشاہ نورانی کے مزار پر خونی دھماکہ بھی کرا دیا گیا۔ پھر بھی تاریخ نے وہ کروٹ لے ہی لی جس سے بھارت خوفزدہ ہے۔ گوادر کی بندرگاہ نہ صرف یہ کہ پاک چین دوستی کے ایک عظیم باب کا عنوان بن گئی ہے، بلکہ اسے اگر گریٹ گیم کا کلائمیکس کہا جائے تو نامناسب نہیں ہوگا۔
بھارت میں صف ماتم بچھ چکی ہو گی۔
میاں نواز شریف کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے ہر اہم موڑ پر اس کے وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ 28 مئی 1998ءکو بھی وزیر اعظم وہی تھے۔
جنرل راحیل شریف بجا طور پر اپنے آپ کو اِس تاریخی لمحے کا ہیرو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی آنے والی نسلیں بھی یہ دعویٰ کر سکیں گی کہ گوادر کا عظیم الشان منصوبہ مولانا کی کاوشوں کا ثمر تھا۔
کہانی کواِس قسم کی کامیڈی بنا ڈالنے کا کریڈٹ بجا طور پر میاں نواز شریف لے سکتے ہیں۔

Scroll To Top